menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

1 May Ka Ustad

25 0
01.05.2026

اسلم ریاضی میں ایم فل کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے مکمل کرکے اپنے شہر خواب نگر لوٹا تھا، تمام جاننے والوں نے اس کو ڈگری کے مکمل ہونے پر مبارک بادی دی تھی۔ وہ اپنی زندگی کی ایک مشکل ترین منزل کو سر کرکے مطمئن تھا، ہر طرف اس کی تعریف ہو رہی تھی۔ اس کے شہر میں ایم فل کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی جس وجہ سے بھی اس کی اہمیت بڑھتی چلی جا رہی تھی۔

اس نے فقط ڈگری حاصل نہیں کی تھی بلکہ اپنے مضمون میں مکمل دسترس حاصل کر لیا تھا، مضمون پر گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے اس کے ہم شعبے اس سے راہنمائی لینے لگے، سبھی کا کہنا تھا کہ اگر تعلیم حاصل کرنی ہے تو اسلم کی طرح حاصل کرنی چاہیے۔

چند مہینے اسی گہما گہمی میں گزر گئے تب گھر والوں نے اشاروں اشاروں میں نوکری کی بات چھیڑ دی۔

"ارے بیٹا تم نے تو اعلا تعلیم حاصل کرنی تھی سو کر لی اب کہیں نوکری کر درخواست دے دیں، بلکہ میں تو کہتی ہوں تم سیدھے گورنمنٹ میں درخواست دے دیں"۔ اسلم کی امی امید بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

"امی سرکاری نوکری اتنی جلدی کہاں آتی ہے! آتی بھی ہے تو ایک دو سیٹیں آتی ہیں اور اس کے پروسیس میں ڈیڑھ دو سال کا عرصہ گزر جاتا ہے اس لیے اتنی جلدی سرکاری نوکری کی امید رکھنا بیکار ہے"۔ اسلم کی آنکھوں میں انتظار کر گھڑیاں صاف نظر آ رہی تھیں۔

"او اچھا، یہ تو تھکاوٹ سے چور سفر ہے۔ پھر تو میرا بیٹا کسی پرائیویٹ ادارے میں درخواست دے دیں"۔ اسلم کی امی امید کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے نظر آ رہی تھیں۔

"امی جان آپ کو شاید نہیں........

© Daily Urdu