menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Siasi Sahiri Aur Muflis Shehar (1)

22 0
01.07.2026

سیاسی ساحری اور مفلسِ شہر (1)

بندن میاں کہتے ہیں کہ میں نے نویں جماعت فیل ہونے کے بعد سے لے کر اب تک اپنی اس طویل و عریض اور لایعنی زندگی میں بہت سے مداری، شعبدہ باز اور جادوگر دیکھے ہیں کسی کے پاس کالی ہانڈی تھی کسی کے پاس مٹی کا جادوئی چراغ تھا کسی نے چشمِ زدن میں کالی ٹوپی سے سفید کبوتر نکالا تو کسی نے میلے کے بیچوں بیچ اپنے بوسیدہ رومال کو چشمِ بید لاد سے چنبیلی کا پھول بنا دیا کسی نے تو بھرے مجمعے میں خالی گتے کے ڈبے سے کان پکڑ کر جیتا جاگتا خرگوش برآمد کر لیا مگر خدا کی پناہ جو محیر العقول، عالمِ آشوب اور ہوش ربا جادو ہم نے اس ارضِ پاک کی سیاست کے اکھاڑے میں دیکھا ہے وہ نہ کسی تہران کے سرکس میں ملا نہ قرطبہ کے میلے میں اور نہ ہی ہالی ووڈ کی کسی سحر انگیز فلم میں نظر آیا۔ یہاں کی جادوگری کا عالم تو یہ ہے کہ سحر و افسوں کی وہ روایتی چھڑی بھی کہیں دکھائی نہیں دیتی کوئی جادوگر "چھو منتر" بھی نہیں کہتا مگر پلک جھپکتے ہی قومی خزانہ یوں غائب ہو جاتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ عوام کی جیب پر ایسا "دستِ غیب" چلتا ہے کہ وہ یک لخت ہلکی پھلکی بلکہ بالکل ہی سبک دوش ہو جاتی ہے اور دوسری طرف حکمرانوں کی مراعات شاہی شاہ خرچیاں اور سفری الائونسز اتنے وزنی، بھاری بھرکم اور اژدہا صفت ہو جاتے ہیں کہ معیشت کا ترازو ہی ایک طرف جھک جاتا ہے۔

ایک دن بندن میاں محلے کے موڑ پر واقع رستم خان کے چائے کے خستہ حال کھوکھے پر تشریف فرما تھے جہاں ابلتے ہوئے قہوے کی بھاپ اور غریبوں کی آہوں کا دھواں یکجا ہو رہا تھا۔ سامنے ایک دہاڑی دار مزدور اپنے جسم سے گرنے والے پسینے سے بالکل شرابور آدھی بھیگی ہوئی بوسیدہ قمیض میں لپٹا سوکھی روٹی کو چائے کے پیالے میں ڈبو ڈبو کر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا۔ اس کے برابر میں ایک کسان سر پر میلا سا ساڑھے تین گز کا پگڑ باندھے زمین پر بیٹھا امسال خریف کی فصل کے رولےکھاد کی گرانی اور آڑھتی کے ظلم کا حساب کتاب انگلیوں پر لگا رہا تھا جبکہ دوسری طرف ایک نحیف و نزار ضعیف العمر ریٹائرڈ پنشنر جن کی عینک کا ایک شیشہ عرصے سے ٹوٹا ہوا تھا اپنی قمیض کی اندرونی جیب میں پڑے ہوئے قائداعظم کے چند پرانے مڑے تڑے اور میلے نوٹ اس طرح گن رہا تھا جیسے کوئی جوہری نایاب ہیرے تلاش کر رہا ہو۔ اچانک کھوکھے کی دیوار پر ٹنگے ہوئے چودہ انچ کے پرانے رنگین ٹی وی پر نسوانی آواز میں دھماکے دار بریکنگ نیوز چلی کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں پارلیمان کے معزز معتبر اور عالی مرتبت اراکین کے لیے نئی مراعات مفت پیٹرول شاہی میڈیکل الاؤنس اور بیرونِ ملک دوروں کا پیکیج متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔

یہ جانکاہ خبر سن کر بندن میاں نے شدید حیرتِ استعجاب سے چائے والے کی طرف دیکھا اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور بولے اوئے رستم خان یہ کون سا طلسمِ ہوش ربا ہے؟ یہ کون سا صیغہِ راز ہے کہ جب عوام کے تن کو کپڑا اور پیٹ کو روٹی دینے کی بات ہو تو خزانہ ہمیشہ طفلِ یتیم کی طرح خالی ملتا ہے اور جب ان عالی جاہوں، ظلِ الٰہیوں اور صاحبانِ اقتدار کی باری آئے تو خزانے کا کنواں زمزم کی طرح ابلنے لگتا ہے اور کبھی خشک ہی نہیں ہوتا؟ چائے والا جو پچھلے بیس سال سے چائے کے پتیلے میں ابال دیکھ دیکھ کر خود بھی فلسفی بن چکا تھا دانت نکال کر ہنسا اور بولے بندن میاں آپ بھی کس دورِ قدیم کی باتیں لے بیٹھے۔ یہ سیاست نہیں ہے یہ خالص "شعبدہ بازیِ فرنگ" اور "جادوگریِ مشرق" کا امتزاج ہے۔ اس سحرِ حلال کا راز ہم جیسے........

© Daily Urdu