Sach Ka Tanha Musafir Aur Jhoot Ki Patriyon Par Dagmagati Pakistan Railway |
سچ کا تنہا مسافر اور جھوٹ کی پٹریوں پر ڈگمگاتی پاکستان ریلوے
بندن میاں اُس روز ریلوے اسٹیشن کے اُس ویران پلیٹ فارم پر بیٹھے تھے جہاں شامیں ہمیشہ کسی تھکے ہوئے مسافر کی طرح خاموشی سے اترتی ہیں اور فضا میں ایسی اداسی چھوڑ جاتی ہیں جیسے وقت خود بھی یہاں آکر کچھ دیر کے لیے رک گیا ہو۔ پلیٹ فارم کے زرد بلب اپنی مدھم روشنی میں ٹمٹما رہے تھے اور ہوا میں زنگ آلود لوہے، دھوئیں اور پرانی یادوں کی ملی جلی مہک تیر رہی تھی۔
بندن میاں نے آہستہ سے نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ ایک مال گاڑی پٹریوں پر ایسے رینگتی ہوئی گزر رہی ہے جیسے کوئی بوڑھا مزدور عمر بھر کا بوجھ اپنی کمر پر اٹھائے آخری سفر طے کررہا ہو۔ مال گاڑی کی خستہ حال بوگیاں عجیب تھکے ہوئے انداز میں چرچراتی ہوئی آوازیں نکال رہی تھیں۔ کمزور اور جگہ جگہ سے بل کھائے ہوئے ٹریک کی وجہ سے ڈبے کبھی دائیں تو کبھی بائیں ہچکولے کھارہے تھے اور یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ہر بوگی اپنے وجود کو سنبھالنے کی آخری کوشش کررہی ہو۔ انجن کی بھاری سانسیں فضا میں پھیل رہی تھیں اور اُس کی آواز میں ایک ایسا درد تھا جو صرف وہی محسوس کرسکتا تھا جس نے اس ادارے کو اپنی آنکھوں سے بکھرتے دیکھا ہو۔
بندن میاں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور دھیرے سے بولا یہ ریل گاڑی ایسے ہی اس حال کو نہیں پہنچی۔ اس کی پٹریوں کا صرف فولاد ہی نہیں ٹوٹا بلکہ نیتیں بھی ٹوٹی ہیں۔ اس کے انجن صرف پرانے نہیں ہوئے بلکہ ضمیر بھی بوسیدہ ہوئے ہیں۔ اس تباہی کے پیچھے وقت نہیں بلکہ ابن الوقت لوگ ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ادارے کی بنیادیں کھوکھلی کردیں۔ کہیں اقربا پروری نے قابلیت کا گلا گھونٹا، کہیں سیاسی چال بازیوں نے ایماندار افسروں کو دیوار سے لگادیا، کہیں کام کرنے والوں کو ہٹا کر چاپلوس اور کام چور لوگوں کو اُن کی جگہ بٹھادیا گیا۔ جن ہاتھوں کو پٹریاں مضبوط کرنی تھیں وہی ہاتھ فائلوں کے نیچے سودے کرتے رہے۔ جن آنکھوں کو حادثات روکنے تھے وہ سفارشوں کی چمک میں اندھی ہوگئیں۔ جن لوگوں کو ادارے کا محافظ ہونا چاہیے تھا وہی اُس کی جڑیں کھوکھلی کرتے رہے۔
بندن میاں بولے ریلوے جیسے ادارے ایک دن میں تباہ نہیں ہوتے بلکہ یہ ادارے اُس وقت مرتے ہیں جب اُن کے اندر سے محبت ختم ہوجاتی ہے۔ جب ڈیوٹی صرف تنخواہ بن جائے، فرض صرف حاضری تک محدود ہوجائےاور سچ بولنے والے کو پاگل سمجھا جانے لگے تو پھر پٹریاں بھی کمزور پڑجاتی ہیں۔ مال گاڑی کےڈبے اور مسافر کوچیں بھی ہچکولے کھانے لگتی ہیں اور انجن بھی راستے بھولنے لگتے ہیں۔ محبت صرف کسی انسان سے نہیں ہوتی، محبت اپنے فرض سے بھی ہوتی ہے، اپنے ادارے سے بھی ہوتی ہے، اُس مٹی سے بھی ہوتی ہے جہاں انسان اپنی جوانی کھپادیتا ہے اور سچا انسان جب کسی ادارے سے محبت کرتا ہے تو پھر وہ اُس کے زخم بھی........