Munafiqat Ki Dehleez Aur Rishton Ka Noha

منافقت کی دہلیز اور رشتوں کا نوحہ

بندن میاں اجداد کی وراثت میں ملی لکڑی کی پرانی آرام دہ کرسی پر نیم دراز ہیں، ہاتھ میں تسبیح کے دانے مروڑے جا رہے ہیں اور نگاہیں سامنے صحن میں چلتی پھرتی زندگی کے تماشے پر ٹکی ہیں جہاں دھوپ اور چھاؤں کا ایک عجیب کھیل جاری ہے جو ہر روز ہمارے گھروں کے بند کواڑوں کے پیچھے کھیلا جاتا ہے اور کوئی اس پر لب کشائی کی زحمت نہیں کرتا۔ وہ اپنی عینک کو ناک کی ڈنڈی پر تھوڑا اوپر سرکاتے ہیں ایک گہرا اور سرد سانس بھرتے ہیں اور ان کے چہرے کی جھریاں گہری ہو جاتی ہیں جیسے ان میں صدیوں کا درد، زمان و مکاں کے مصائب اور تاریخ کی ناانصافیوں کے نقش ثبت ہو چکے ہوں اور وہ خاموش زبان سے اس بے حس بستی کے باسیوں کو پکار رہے ہوں۔

معاشرے کی اس دو رخی، اس منافقت، اس بوقلمونی اور اس تضاد بیانی پر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے جو عورت کو صنفِ نازک تو کہتا ہے اسے تقدس و عفت کے اعلیٰ میناروں پر بھی بٹھاتا ہےمہر و وفا کی دیوی بھی گردانتا ہے لیکن جب اسی عورت کے حقوق، اس کی ذات، اس کی انا اور اس کے وجود کا معاملہ کڑے وقت کی ترازو پر تولا جاتا ہے تو انصاف کے سارے پلڑے یکسر الٹ جاتے ہیں اور مرد سوسائٹی کا خود ساختہ معیارِ حق حرکت میں آ جاتا ہے۔

بندن میاں اجرت و سلوک کے اس معاشرتی فلسفے پر غور کر رہے ہیں جو خونی رشتوں اور سسرالی رشتوں کے درمیان تفریق کی ایک ایسی خونی لکیر کھینچ دیتا ہے جسے پار کرتے ہی محبتیں عداوتوں میں، شبنمِ الفت انگاروں میں اور شفقتیں ظلم و ستم کے مہیب و تاریک سایوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ یہ وہی چہرے ہیں جو ابھی کل تک تقدس کے دعویدار تھے۔

صنفِ واحد کے اس المیے کو وہ روز دیکھتے ہیں روز جیتے ہیں اپنے اردگرد کی فضاؤں میں اس کا زہر گھلتے پاتے ہیں اور روز ہی اپنے قلم کے تیکھے پن سے معاشرے کے اس ناسور کو کریدنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا علاج تاحال ہماری خود غرضی کے باعث دریافت نہیں ہو سکا اور ہم مسلسل اس بیماری کو پال رہے ہیں۔ عورت اس روئے زمین پر خدا کی تخلیق کا سب سے خوبصورت، معتبر، مستحکم اور لاجواب مظہر ہے وہ بیک وقت ماں بھی ہے جس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی گئی اور جس کی دعا عرشِ الٰہی کو ہلا دیتی ہے وہ بہن بھی ہے جو غیرت، حیا، خلوص اور بے غرض محبت کا ایک انمول و ناپید استعارہ ہے وہ بیٹی بھی ہے جو رحمت الٰہی کا سایہ بن کر کسی بھی آنگن کو اپنے معصوم قہقہوں، لوریوں اور پاکیزہ وجود سے منور و جاندار کرتی ہے اور باپ کے ماتھے کا جھومر بنتی ہے۔ لیکن تماشائے جہاں دیکھو اور اس بستی کے قاضیوں کا انصاف ملاخطہ کرو کہ یہی رحمت، یہی عظمت، یہی رفعت اور یہی تقدس اس وقت ایک جرمِ بے گناہ، ایک عیبِ عظیم اور ایک ناقابلِ معافی بوجھ بن جاتا ہے جب وہ کسی دوسرے کے گھر کی دہلیز پار کرکے بہو کے روپ میں داخل ہوتی ہےجہاں اس کے حقوق کا تعین اس کے اخلاق، اس کی اعلیٰ تعلیم، اس کی خاندانی شرافت یا اس کے مہر و محبت سے نہیں بلکہ اس کے بطن سے پیدا ہونے والے وجود کی جنس سے کیا جاتا ہے جو کہ سراسر قدرت کا کارخانہ ہے۔

بندن میاں معاشرے کی اس تنگ نظری اور فکری پستی پر شدید حیرت زدہ ہیں کہ جب انسان کی اپنی بیٹی بیٹیاں جنے، جب اپنے خون کی لکیر آگے بڑھانے کے لیے ردا کی وارثیں پیدا ہوں تو اسے مصلحتِ خداوندی، تسلیم و رضا، صبر و شکر کا مقام اور اللہ کی مرضی کہہ کر خاموشی سے قبول کر لیا جاتا ہے اور اس میں کوئی برائی، کوئی عیب، کوئی خامی یا کوئی قباحت نظر نہیں آتی، بلکہ وہاں بیٹی کو اللہ کی خاص رحمت قرار دے کر دل کو تسلی دی جاتی ہے اور مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں۔ مگر جوں ہی وہی معاملہ بہو کا ہو، جوں ہی وہ پرائی بیٹی جو........

© Daily Urdu