menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Budget, Girani Aur Ghareeb Ka Shikam

32 0
14.06.2026

بجٹ، گرانی اور غریب کا شکم

بجٹ کے اس تاریخی دن، بندن میاں اس امید پر صبح نہا دھو کر تیار ہو کر اس طرح ٹی وی کے آگے براجمان ہوئے جیسے آج کی مائیں بچوں کے ہاتھ میں موبائل دے کر بے فکر ہو جاتی ہیں۔ گھر کے تمام افراد حیران و پریشان تھے کہ آج ایسی کونسی قیامت خیز خبر آنے والی ہے جو بندن میاں نے علی الصباح ٹی وی لاؤنج میں باقاعدہ خیمہ زن ہو کر ڈیرے ڈال لیے ہیں اور ہر آنے جانے والے کو یوں خاموشی اختیار کرنے کا جابرانہ حکم صادر کر رہے ہیں جیسے ذرا سی جنبش سے ملکی معیشت کا نازک آبگینہ چکنا چور ہو جائے گا۔

بندن میاں کے چہرے پر کبھی امید کا سرخ رنگ آ رہا تھا تو کبھی خوف کا زرد رنگ جا رہا تھا وہ بار بار اپنی بوسیدہ عینک کو کلف لگے کرتے کے دامن سے صاف کرتے اور ٹی وی سکرین پر نمودار ہونے والے وزیرِ خزانہ کے چمکتے دمکتے اور گداز چہرے کو یوں گھورتے گویا اسی چہرے کے پیچھے ان کی بقا کا راز چھپا ہو۔ لیکن جوں جوں بجٹ تقریر کے اعداد و شمار کا جادوئی طلسم کھلتا گیا اور لفظی بازیگری کے غبارے سے ہوا نکلتی گئی توں توں بندن میاں کے چہرے کے تاثرات کسی سستی ہارر فلم کے مناظر کی طرح بدلنے لگے اور جیسے ہی وزیرِ موصوف نے تنخواہ داروں اور پینشنرز کے لیے اس عظیم الشان اور تاریخی ریلیف کا اعلان کیا جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں تھا تو بندن میاں کے صبر کا پیمانہ یکسر لبریز ہوگیا اور انہوں نے ایک دل دوز چیخ مار کر لاؤنج میں وہ تاریخی نعرہ بلند کیا کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا، وہ بھی مرا ہوا۔

بندن میاں کی اس وحشت ناک دہائی پر پورا خاندان جو اب تک سہم کر کونوں کھدروں میں چھپا ہوا تھا یوں امڈ آیا جیسے محلے میں لٹھ ماروں کی جنگ چھڑ گئی ہومگر بندن میاں اس وقت ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر معیشت کے اس گورکھ دھندے پر سر دھن رہے تھے جہاں عقلِ انسانی دنگ اور جیبِ خاکی بالکل لنگ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بڑی حسرت سے اپنے اس پرانے، خستہ حال اور فاقہ مست پرس کی طرف دیکھا جو اب صرف شناختی کارڈ اور چند پرانے یوٹیلٹی بلوں کی لاشیں سنبھالنے کے کام آتا ہے اور پھر ٹی وی سکرین پر موجود اس بجٹ دستاویز کو کوسنے لگے جس نے غریب کی تنخواہ میں اتنا بھرپور اور شاہانہ اضافہ کیا تھا کہ اس خطیر رقم سے ان کے پوتے کے چند دن کے پیمپرز بھی نہیں خریدے جا سکتے تھےیعنی اب ملکی معیشت کا پہیہ اس نہج پر آ پہنچا ہے کہ غریب ملازم کی مہینے بھر کی جانفشانی کا حاصل صرف معصوم بچوں کی رفعِ حاجت کے انتظام میں ہی غرق ہو جائے گا اور باقی پورا مہینہ وہ خود ہوا خوردن و شکر کردن کے وظیفے پر گزارنے پر مجبور ہوگا۔

اس ملکِ خداداد میں مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ اب اشیائے خورونوش بازار میں نہیں بلکہ کسی صرافہ بازار کی دکان پر بکتی محسوس ہوتی ہیں جہاں پیاز اور ٹماٹر کو........

© Daily Urdu