Peoples Party Aur Dakhli Jamhuriat
گزشتہ روز میں نے "پی پی پی کی قیادت اور اخلاقیات" کے حوالے سے ایک تحریر فیس بک، وٹس ایپ سماجی رابطے کی ایپس پر آپ لوڈ کی۔ ملک بھر میں پی پی پی کے کارکنوں، ہمدردوں اور عام سوشل میڈیا قاری نے اس پر اپنی رائے دی۔ یہ پوسٹ لٹمس ٹیسٹ ثابت ہوئی۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ پی پی پی میں فعال کارکن ہوں، ناراض ہوکر گھر بیٹھ جانے والے ہوں، اس سے ہمدردی رکھنے والے ہوں یا سفید پوش محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے عام لوگ ہوں ان کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ پی پی پی کی قیادت کی پالیسیاں اور سیاست ان کی خواہشات، مفادات اور آرزوؤں کی ترجمانی نہیں کر رہیں۔
اس پارٹی پر سرمایہ دار، جاگیردار اور درمیانے طبقے کے بد عنوان لوگوں کا قبضہ ہے۔ پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو، شریک چئیرمین آصف علی زرداری اور دیگر صف اول کے نمایاں رہنماؤں کو گراس روٹ لیول پر پی پی پی کے کارکنوں کی نہ تو پہچان ہے اور نہ ان سے ان کا کوئی رابطے کا باقاعدہ تنظیمی نیٹ ورک ہے۔ پارٹی کی تنظیموں کی تشکیل نامزدگی کے زریعے سے عرصہ دراز سے چلی آ رہی ہے جس کی وجہ سے پارٹی کی تنظیموں پر پارٹی کے اندر موجود طبقہ اشرافیہ اور ایسے ورکرز کے چند ٹولوں کا قبضہ ہے جن کا کردار بہت عرصہ پہلے حقیقی ورکرز کلاس سے مطابقت رکھتا تھا لیکن اب وہ پارٹی کے اندر ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور ان کا کردار بدترین موقعہ پرست ورکرز بیوروکریسی کا بن چکا ہے۔
پی پی پی کے کارکن پارٹی کے چیئرمین، شریک چئیرمین اور دیگر رہنماؤں سے یہ........
