Hamare Samraj Dushman Ulema Aur Firqa Parasti

ہمارے سامراج دشمن علماء اور فرقہ پرستی

برصغیر میں سامراج دشمنی اور سیکولر ہندوستانی قوم پرستی میں رچے بسے علماء جن کی انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد اور ملک میں کمیونل سیاست کے مقابلے میں سیکولر انڈین نیشنلسٹ سیاست کی کمیونسٹ بھی تعریف کرتے نہیں تھکتے ان کی زندگی میں فرقہ واریت ایک ایسا عنصر تھی جس کی روداد کبھی ان کے سیکولر نیشنلسٹ اور کمیونسٹ ممدوحین سامنے لیکر نہیں آئے۔

میں اگر شیخ الہند اسیر مالٹا، تحریک ریشمی رومال کے بانی دارالعلوم دیوبند کے دوسرے مہتم /وائس چانسلر مفتی محمود حسن دیوبندی کی بات کروں تو وہ جمعیت علماء ہند کے بانیان میں سے تھے۔ وہ وطن سے قوم کی بنیاد بننے کے قائل تھے۔ ہندو-مسلم اتحاد کو سامراج سے آزادی کی شرط اولین سمجھتے تھے لیکن ان کی تصنیفات میں ہمیں فتاوی محمودیہ میں شیعہ کو کافر قرار دیے جانے کے کئی فتوے مل جاتے ہیں۔ وہ یہود-نصارا کے خلاف انتہائی تنگ نظر خیالات کے حامل تھے۔ پھر وہ صوفیاء کے گروہ جن میں بریلوی بھی شامل ہیں کے خلاف سخت خیالات کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں۔

اسی طرح شیخ الاسلام، محدث ہند کہلانے والے مولانا حسین احمد مدنی جن کی برطانوی سامراج کے خلاف کتاب "انگریز سامراج نے ہندوستان کو کیسے لوٹا" سامراجیت کے خلاف لکھی گئی اولین اور کلاسیکل حوالہ کتاب سمجھی جاتی ہے اور وہ ہے بھی۔ ان کی علمی سرگرمیوں میں بریلوی، شیعہ کے خلاف کتابوں اور کتابچوں کی بھرمار ہے۔ انھیں لیکر انھوں نے کبھی سیکولر انڈین نیشنلسٹ سیاست کے دائرے میں انھیں رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ جناح کے کمیونل موقف اور نظریہ پاکستان کی وہ سیکولر انڈین نیشنلزم کے راستے سے مخالفت کرتے رہے۔ وہ ہندو-مسلم اتحاد، گاندھی کے عدم تشدد کی سیاست کے بہت معترف ہونے کے باوجود شیعہ اور بریلوی کے باب میں بہت سخت تھے۔

مولانا عبید اللہ سندھی جنھوں نے "وحدت ادیان " تک کا نظریہ پیش کیا اور اس کے مبلغ بھی رہے لیکن اس "وحدت" سے انھوں نے بھی شیعہ، بریلوی کو خارج ہی رکھا۔ انھوں نے شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ عبدالعزیز دہلوی کی کتاب تحفہ اثنا عشریہ کی بہت تعریف کی شیعہ، بریلوی اور کئی فرقوں کو کافر، مشرک، ضال و مضل (گمراہ اور گمراہ کرنے والے لکھا) کئی شیعہ فرقوں کی اشتراکیت بھی انھیں عبیداللہ سندھی کی تعریف کا مستحق نہ ٹھہرا سکی۔

احراری علماء ہوں یا جمعیت علماء ہند کے علماء یہ سامراج دشمنی اور سیکولر انڈین نیشنلسٹ ہونے کے باوجود 1925ء-1929 کے درمیان صوبہ متحدہ جات اور پنجاب میں شیعہ۔ سنی فرقہ وارانہ فسادات کا حصہ بن گئے اور دیوبندی-بریلوی فرقہ وارانہ مناقشہ میں بھی یہ صف اول کے دستے کا کردار ادا کرتے پائے گئے۔ اگرچہ انھوں نے شیعہ کو سامراج دوست فرقہ قرار نہیں دیا لیکن بریلوی اور احمدیوں کو انھوں نے برملا انگریز سامراج کے لگائے شجر قرار دیا۔

جناح کی قیادت پر شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے سیکولر نیشنلسٹ سیاست دان کے طور پر نظری حملے نہیں کیے بلکہ یہ جناح کے شیعہ ہونے، ان کی رتی بائی سے سول میرج ایکٹ کے تحت شادی کو لیکر ایک تنگ نظر مولوی کی طرح حملہ آور ہوئے اور ایک کتابچہ جناح کے کافر، خارج از اسلام ہونے پر لکھ مارا۔

جمعیت علماء ہند کے کانگریس نواز نیشنلسٹ علماء جو پاکستان بننے کے بعد سیاست میں سرگرم ہوئے جن میں مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزاروی کے نام سرپرستی ہیں انھوں نے اپنے لیے کانگریس نواز نیشنلسٹ علماء ہونے کی شناخت عملی طور پر گالی سمجھ لی۔ یہ جماعت اسلامی سے کہیں زیادہ "سیکولر ازم" کو "لادینیت، دھریت، اسلام دشمنی" قرار دیتے پائے گئے۔ اگرچہ یہ سابقہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں لیفٹ اور قوم پرستوں کی مشترکہ سیاسی سیکولر جمہوریت پسند جماعت نیشنل عوامی پارٹی کے اتحادی رہے اور اس جماعت کی مدد سے مفتی محمود 1972ء میں سابقہ صوبہ سرحد اور موجودہ خیبر پختون خوا کے چیف منسٹر بھی بنے۔ لیکن بعد ازاں یہی مفتی محمود پی این اے کے صدر اور تحریک نفاذ نظام مصطفی کی سربراہی کرتے پائے گئے۔

ان کے بیٹے اور جے یو آئی کے اپنے دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمان جو خود کو جمعیت علماء ہند کی سیاست کے امین اور وارث کہتے ہیں پاکستان میں سیکولر ازم کے سب سے بڑے مخالف اور دشمن بھی ہیں۔ یہ کانگریسی نیشنلسٹ علماء 1949ء میں قرارداد مقاصد کے حامی بنے اور انھوں نے 56ء اور 73ء کے آئین میں پاکستان کو عوامی جمہوریہ پاکستان لکھے جانے کی شدید مذمت کی اور اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھوایا۔ یعنی پاکستان میں آنے یا رہ جانے والے نیشنلسٹ علماء نے ہندو-مسلم کے باب میں بھی وطنیت اور قومیت کے سیکولر تصور کو طلاق بائنہ دوامی دے ڈالی جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں رہتی۔ یہ اتنا بڑا یو ٹرن اور تضاد تھا اور ہے کہ اس کی کوئی توجیح تلاش کرنا بھی ناممکن سا لگتا ہے۔ یہ کمیونل اور فرقہ وارانہ سیاست کی طرف پلٹ جانے اور جناح سے کہیں زیادہ تھیاکریسی کی طرف مڑ جانے کا عمل تھا۔

تاہم کچھ سامراج دشمن علماء ایسے بھی تھے جنھوں نے صدق دل سے سیکولر نیشنلسٹ سامراج دشمنی کا جھنڈا اٹھایا اور ان کے ہاں ہمیں یہ تضاد دیکھنے کو بھی نہیں ملتا۔ کامریڈ مولانا برکت اللہ بھوپالی، مولانا حسرت موہانی اور مولانا عبدالحمید بھاشانی ایسے ہی سچے سامراج دشمنی سیکولر علماء تھے۔ یہ مولانا عبدالحمید بھاشانی تھے جنھوں نے مسلم عوامی لیگ کا نام پہلے صرف عوامی لیگ رکھا اور جب سہروردی سے علیحدگی ہوئی تو اس کا نام نیشنل عوامی پارٹی رکھ دیا اور 1955ء میں انھوں نے مغربی پاکستان میں بنی سامراج دشمن سیکولر پارٹی "نیشنل پارٹی" میں ادغام کا اعلان کیا جو نیشنل عوامی پارٹی کہلائی۔ مولانا عبدالحمید بھاشانی متحدہ پاکستان کو ایک سیکولر عوامی جمہوریہ پاکستان بنانے کی جدوجہد کرتے رہے اور پھر مغربی پاکستان کے گماشتہ سرمایہ دار، جاگیردار اہل سیاست سے مایوس ہوکر مغربی پاکستان کو الوداع کہہ گئے۔


© Daily Urdu