Moscow Se Makka (22) |
دو تین روز کی آزادی بھی نصیب ہونے والی نہیں تھی۔ میرا "بلیک ہول" کمرے کا ساتھی ماگومید تاجکوں سے تنگ تھا۔ اس نے بھی علیحدہ کمرے کی عرضی ڈالی ہوئی تھی۔ چونکہ ایک گروپ جاچکا تھا اس لیے اسے بھی عارف نے دوسری منزل پہ کمرہ 214 دے دیا تھا۔ میں نے محمد مصری سے اسے اس کمرے کی چابی دلوائی تھی اور دبے لفظوں میں کہا تھا کہ چلو دو تین روز تو اکیلے رہ سکیں گے۔
وہ برا مان گیا تھا۔ کہنے لگا کہ مجھے تم سے انسیت ہے، تم میرے دوست ہو۔ میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ مبادا اکیلے میں کسی کو کچھ ہو جائے۔ اگر تم مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے تو ٹھیک ہے۔ معاملہ حج کا تھا، کسی کا دل بھی نہیں دکھانا چاہیے تھا۔ میں سمجھ گیا تھا کہ ماگومید تنہائی سے خائف ہے۔ دل میں سوچا، بھائی ماگومید تم پرسکون ہو لو ہماری خیر ہے۔ میں نے اسے کہا تھا کہ سامان لے آؤ، مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن میں اے سی ایک منٹ کے لیے بھی بند نہیں کروں گا۔ اس نے کہا تھا کہ اسے اے سی چلنے یا بند ہونے دونوں کی پرواہ نہیں ہے۔
وہ اپنا سامان لینے چلا گیا تھا اور میں نے کمرے کا دروازہ اور کھڑکیاں کھول دیے تھے تاکہ "کراس وینٹیلیشن" ہو جائے اور احمد کے مریضانہ سانسوں اور کھانسی سے مسموم ہوا نکل جائے۔ ساتھ ہی ہوٹل کے سیاہ........