Mera Bachpan Nagar: Mohsin Khalid Mohsin |
میرا بچپن نگر: محسن خالد محسنؔ
بچپن سبھی کو عزیز ہوتا ہے۔ مجھے بھی عزیز ہے۔ یہ تو یاد نہیں کہ کب شعور سنبھالا اور بچپن کا ساتھ کس موڑ پر چھوٹا۔ تاہم کچھ کچھ یاد ہے کہ ایک پرانا بڑاسا کمرہ ہے جسے دیہات میں عام طور پر بیٹھک کہا جاتا ہے۔ اس میں دادی اماں کا ایک بڑا سا پلنگ ہے تو تقسیمِ ہند سے قبل کا ہے اور اب بھی گھر میں موجود ہے۔
اُس پلنگ پر دادی اماں تشریف فرما ہیں اور ساتھ دو چھوٹی چارپائیاں ہیں جن میں ایک پر میں سوتا ہوں اور دوسری پر بڑے بھائی سویا کرتے تھے۔ بڑے بھائی بچپن سے ہی تھوڑا موٹا دماغ رکھتے تھے اس لیے داد ی کی اکثر جھڑکیاں کھاتے ہیں اور ہمیں ذہین سمجھا جاتا تھا اور دادی کی قُربت بلکہ گود میں ہی رہتا تھا۔ موٹے دماغ والا اب کہیں سے کہیں بڑھ گیا اور میں پیچھے رستہ دیکھتا رہ گیا۔ ایسا چھوٹے چھوٹے قصبوں میں اکثر ہوتا ہے۔ ذہین اور سمجھدار وقت کے ساتھ بے وقوف ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ موٹے دماغ والا بڑے معرکے کا فاتح گردانا جاتا ہے۔
یہ دیہات کی ایک عجیب سی رسم ہے کہ والدین ذہین اور چالاک قسم کے بیٹے کو اپنی قُربت کے لیے منتخب نہیں کرتے بلکہ سیدھے سبھاؤ والے لڑکے کا انتخاب کرتے ہیں جو کام چور، کاہل نکما اور جھگڑا لو قسم کا ہوتا ہے۔ بہت دیر بعد جا کر یہ سمجھ آیا کہ ذہین و فطین نے بہت جلد شعور سنبھالنے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد شہر کی خوراک بننے نکل جانا ہے اور پیچھے رہ جانا ہے اُس نے جس نے والدین کی ناک میں دم کر رکھا ہوتا ہے۔
دراصل ایسے بیٹے پیدا ہونے پر والدین کو زیادہ خوشی ہوتی ہے کیوں کہ وہ اپنے والدین کے انتہائی فرماں بردار ہوتے ہیں اور شریکا برادری کے سامنے ان کی جھوٹی ناک نہیں لگنے دیتے۔ ہر محاذ پر والدین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جبکہ پڑھے لکھے اور ذہین بچے والدین کو سمجھانے لگتے ہیں کہ ابا جی کیا کر رہے ہیں چھوڑیں یہ سب، آپ میرے ساتھ شہر چلیں اور انھیں زبردستی بس اپنے ساتھ لے جانی کی پڑتی رہتی ہے اور شہر میں بھی اپنی مصروف ترین زندگی میں ان کے پاس آدھ گھنٹہ والدین کے لیے نکلتا ہے۔
یہ والدین بہت جلد اُکتا کر واپس گاؤں لوٹ آتے ہیں اور شریکے برادری کے برسوں پرانے اختلافات کو پھر سے ہوا دیتے ہیں اور گروپ و تفرقہ بازی میں پڑ کر تھانے عدالت اور پنچائیت کی مہمات کو انجام دینے میں مگن ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی کھینچا تانی اور لڑائی جھگڑے اور ٹانگ کھینچنے ناپنے والی زندگی کا مزہ انھیں پانچ مرلہ کی قید زندگی میں کہاں نصیب ہوتا ہے۔ دیہات کے یہ شعور سنبھالنے کےبعد کی کہانی ہے۔
میں اکثر کہتا ہوں کہ دیہات کی راتیں بہت حسین اور دل آویز ہوتی ہیں جبکہ دن بڑے تلخ اور بیزار کُن ہوتے ہیں۔ دن چڑھتا ہے تو ڈھلنے کا نام ہی نہیں لیتا اور روشنی میں ہر اچھی چیز بُری اور بیزار دکھائی دیتی ہے۔ رات کے وقت اندھیرا سب کے عیوب کو ایسے چھپا لیتا ہے جیسے فاختہ اپنے بچوں کو گود میں چھپا لیتی ہے۔ دیہات میں گھر کی کھلی چھت پر چودھیوں کا چاند دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ بندہ رانجھا بن کر اپنی ہیر کی پازیب کی جھنکار سننے کو ترستا ہے اور تہجد کے بعد کی وہ آہستہ آہستہ نرمل سی کومل بادِصبا کا اپنا ہی مزہ ہے۔ بندہ بغیر پیے مستی میں غرق ہوجاتا ہے۔ رہ رہ کر سابقہ محبتیں یاد آتی ہیں اور ہر وہ نقش جسے بھلا دیا گیا سامنے آکر کھڑا ہوجاتا ہے۔
دادی نانی سے سُنی ہوئی پریوں کی کہانیوں کا بادشاہ خود کو محسوس کرنا عام سی بات ہے۔ میری یاداشت میں سب سے پہلی کہانی اُس بادشاہ کے بیٹے کی محفوظ ہے جس نے اپنے اکلوتے بیٹے کی خوشی کے لیے اپنی بادشاہت تج دی تھی۔ بادشاہ کو بیٹے کی طرف سے خوشی عزیز تھی۔ بیٹے نے دمشق کی شہزادی سے شادی کی ضد میں کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور پھر بادشاہ نے مجبور ہو کر دمشق کے بادشاہ کے سامنے اپنی ساری بادشاہت رکھ دی۔ اس کے بعد کیا ہوا معلوم نہیں لیکن شعور سنبھالنے کے بعد دمشق کی ایک شہزادی ہمارے حصے میں بھی آتے آتے رہ گئی۔
دمشق کی شہزادیاں عام طور پر محلے کی ہمسایاں ہوا کرتی ہیں، دور پنگھٹ پر پانی بھرنے والی ہم جولیاں ہوا کرتی ہیں، اکھٹے سکول جانے والی کلاس فیلوز ہوا کرتی ہیں اور راستے میں بہانے سے مدد لینے والی اجنبی ہرنیاں ہوا کرتی ہیں۔ بچپن کا زمانہ ناقابلِ فراموش ہوتا ہے۔ دُنیا کا کوئی انسان ایسا نہیں جس نے اپنے جوان ہونے بعد سے مرنے تلک اپنے بچپن کو یاد نہ کیا ہو۔
سوشل میڈیا کی اسیر جینزی مخلوق کو کیا سمجھائیں کہ ہم نے موبائل سے باہر کی دُنیا کو کس طرح انجوائے کیا ہے۔ ایک بڑا سا صحن جس میں دسیوں........