menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Yemen Saudi Jang

16 0
previous day

دو مسلم ممالک میں جنگ چھڑنے سے اس امر کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ملتِ اسلامیہ کے برے دن ابھی جاری ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ جنگ جیسے بڑے اور نتیجہ خیز واقعات کے ہمارے تجزیات ابھی تک فرقہ وارانہ ہی ہیں، جو ہماری فرقہ وارانہ معلومات میں کوئی اضافہ کرتے ہیں اور نہ سیاسی صورت حال کو سمجھنے میں معاون ہوتے ہیں اور ان کی افادیت پروپیگنڈے اور نعرے تک محدود رہتی ہے۔

گزارش ہے کہ عصر حاضر میں عالمی جنوب اور ملت اسلامیہ میں چھڑنے والی ہر جنگ کا پس منظر استعماری ہے اور اس تناظر کے بغیر کوئی جنگ بھی ہمارے لیے قابل فہم نہیں ہو سکتی۔ مغرب اور مسلم دنیا میں نبردآزمائی سولھویں صدی میں شروع ہوئی تھی اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ ہی پوری ملتِ اسلامیہ پر مغربی غلبہ مکمل ہوگیا۔ جنگ عظیم اول اور خاص طور پر جنگِ عظیم دوم کے بعد مسلم دنیا میں قائم سیاسی طاقت اور معیشت کے نظام مغرب کی طاقت ہی کی توسیع ہیں اور داخلی طور پر ان کا جواز اور بقا بھی مغرب کی اشیرباد کا محتاج ہے۔

جنگ کا بنیادی مقصد طاقت کے کسی نظام کو ختم کرنا، طاقت کا کوئی نظام قائم........

© Daily Urdu