menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Eman Aur Ilm

57 0
25.02.2026

ہو سکتا ہے کہ کسی کے لیے میرا نام لے کر بات کرنا کسر شان کا معاملہ ہو، لیکن متکلم عظیم جناب پروفیسر ڈاکٹر زاہد مغل کا نام لینا میں ویسے ہی سعادت خیال کرتا ہوں۔ ان کا ارشاد ہے کہ میں تضلیل، تحقیر اور تضحیک کرتا ہوں۔ تضلیل سے تو میں بالکل بری ہوں۔ یہ ان کی غلط فہمی ہے اور اگر کہنے کی اجازت ہو تو الزام ہے جو اصلاً ان کی آموختہ طبعی سے پیدا ہوا ہے۔ میں طنز ضرور کرتا ہوں لیکن وہ تضحیک یا تحقیر کے لیے نہیں ہوتی، ہمیشہ جِلا آور ہوتی ہے، یعنی کبھی کبھی میں طنزِ جالی میں طبع آزمائی کر لیتا ہوں، کیونکہ مشق سخن کا ہنر نہیں آتا۔

پروفیسر صاحب مابعد الطبیعاتی متون کے افراطِ آموختہ کی پینَک میں ایسے ارشادات فرما جاتے ہیں کہ بات کرنی پڑتی ہے۔ کچھ دن قبل، مولانا عمار خان ناصر صاحب نے "ایمان اور انسانی شعور کا باہمی تعلق" کے زیر عنوان ایک تحریر میں چند ایک سوالات اٹھائے تھے جسے پروفیسر صاحب نے "پرابلمیٹک" قرار دیتے ہوئے تبصرہ کیا اور کہا کہ "ایمان علم ہی کا نام ہے"۔ اس پر سانول عباسی صاحب نے استفسار کیا کہ "حضور کیا واقعی........

© Daily Urdu