Aaliyah |
عمران ہاشمی کی فلم "آوارہ پن" کا گانا "تو پھر آؤں" مصطفی زاہد کی آواز میں روح کے تاروں کو چھیڑ رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی جنوری کی کی طویل ٹھنڈی رات کی خاموشی قائم ہے۔ لیٹے لیٹے اکتا کے کمرے کی کھڑکی کا پردہ ہٹا کے دیکھا تو چاند کو خاموش، اداس اور ہمیشہ کی طرح تنہا پایا۔ شاید اس تنہائی کی ماری بیچاری چاند کو بھی ہماری طرح نیند نہیں آتی اور وہ اس کے لئے ترس رہی ہے۔
یہ نیند اتنی ضروری کیوں ہوتی ہے؟ شاید، اگلے دن کی لڑائی لڑنے کے لئے پچھلے دن کا تھکن اتارنا ضروری ہوتا ہے، اس لئے نیند مجبوری بھی ہے اور ضروری بھی۔ لیکن ہم تو اکثر تھکن پر تھکن اوڑھتے جاتے ہیں اور پھر کسی روز پندرہ سے اٹھارہ گھنٹے سو کے ساری قضا نیند ایک ساتھ پوری کرلیتے ہیں۔
لیکن قضا نماز کی طرح کیا قضا نیند بھی ادا ہو جاتی ہے؟
سوکر اٹھنے کے بعد جسم اکثر دکھنے لگتا ہے اور مزید تھکن کا احساس ہوتا ہے جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ میری قضا نیند ادا نہیں ہوئی۔۔ ہاں نماز کا خدا ہی جانے! لیکن خدا تو سب پہلے سے جانتا ہے، تو ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ خدا ہی جانے؟ جاننے والا اور کیا کیا جانے؟........