Nojawan, Khamoshi Aur Toot Te Khwab |
نوجوان، خاموشی اور ٹوٹتے خواب
میں نے چند دن پہلے ایک نوجوان کو سڑک کنارے بیٹھے دیکھا۔ ہاتھ میں ڈگریوں کی فائل تھی، چہرے پر پریشانی اور آنکھوں میں عجیب سی اداسی۔ میں اس کے قریب رکا اور رسمی انداز میں پوچھ لیا، "کیا کرتے ہو؟"
وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا، "سر! بیروزگار ہوں"۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، یہ دراصل پاکستان کے لاکھوں نوجوانوں کی اجتماعی آواز تھی۔ پاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ دنیا کی ہر ترقی یافتہ قوم اپنے نوجوانوں کو سرمایہ سمجھتی ہے کیونکہ نوجوان صرف آبادی نہیں ہوتے، وہ کسی بھی ملک کی طاقت، معیشت اور مستقبل ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں یہی نوجوان سب سے زیادہ محرومی، بیروزگاری اور ناامیدی کا شکار ہیں۔
ہمارے نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں، ڈگریاں لیتے ہیں، خواب سجاتے ہیں مگر جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں ہر طرف بند دروازے نظر آتے ہیں۔ نوکری کے لیے جائیں تو تجربہ مانگا جاتا ہے، سفارش نہ ہو تو قابلیت بھی بے معنی ہوجاتی ہے اور اگر کسی غریب گھر کا نوجوان ہو تو اس کے لیے حالات مزید مشکل ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہزاروں نوجوان یا تو ملک چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں یا پھر ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، ہر........