Ghaza Board Of Peace Pakistan Tareekh Ke Katehre Mein |
پاکستان کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت محض ایک سفارتی اعلان نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ، نظریہء ریاست اور بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کے درمیان ایک نہایت اہم موڑ ہے۔ اس فیصلے نے ملک کے اندر بھی بحث چھیڑ دی ہے اور باہر بھی دوست و مخالف سب کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہوگئی ہیں۔ غزہ میں جاری قتلِ عام، محاصرے اور انسانی المیے نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رکھا ہے مگر طاقت کا توازن اب بھی قابض ریاست کے حق میں جھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں قائم ہونے والے غزہ "بورڈ آف پیس" میں پاکستان کی شمولیت دراصل اسی ٹوٹتے بنتے عالمی نظام میں ایک نئی سفارتی صف بندی کی علامت بن کر سامنے آئی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے یہ فیصلہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کیا اور اسے غزہ میں دیرپا جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے عمل کو تقویت دینے کی کوشش کے طور پر پیش کیا۔ پاکستانی موقف یہ ہے کہ اگر کسی بھی عالمی فورم پر فلسطینیوں کے حق میں کوئی عملی بات ہو سکتی ہے تو پاکستان کو وہاں موجود ہونا چاہیے، باہر کھڑے ہو کر نعرے لگانے کے بجائے میز پر بیٹھ کر بات کرنا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔
اس اقدام کے دفاع میں پاکستان کا سرکاری بیانیہ تین بڑے نکات کے گرد گھومتا ہے۔ اول، یہ کہ بورڈ آف پیس کوئی فوجی اتحاد نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی اور سفارتی پلیٹ فارم ہے........