Degreeon Ka Qabristan

آپ کبھی غور کریں، ہم نے اس ملک میں بڑے بڑے ہسپتال بنائے، ہم نے موٹر ویز کے جال بچھائے، ہم نے ایٹم بم بنایا اور ہم نے دنیا کی بہترین فوج بھی تیار کر لی، لیکن ہم نے انسان نہیں بنائے! اور انسان بنتے ہیں تعلیمی اداروں میں، ان کلاس رومز میں جہاں آج یا تو سناٹا ہے یا پھر جہالت کا شور۔

میں پچھلے دنوں ایک نوجوان سے ملا۔ اس نے ملک کی ایک بڑی یونیورسٹی سے ایم اے کر رکھا تھا، ہاتھ میں ڈگری پکڑی تھی اور آنکھوں میں مایوسی کا ایک پورا سمندر تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: "بیٹا! تم نے ان سولہ سالوں میں کیا سیکھا؟" اس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور بولا: "تبسم صاحب! میں نے صرف امتحان پاس کرنا سیکھا ہے، زندگی جینا نہیں سیکھا"۔ یہ صرف اس ایک نوجوان کی کہانی نہیں ہے، یہ اس ملک کے ڈھائی کروڑ ان بچوں کا نوحہ ہے جو اسکولوں سے باہر ہیں اور ان لاکھوں نوجوانوں کا ماتم ہے جو ڈگریاں بغل میں دبا کر نوکریوں کی قطار میں ذلیل ہو رہے ہیں۔

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت نہیں، تعلیم ہے۔ لیکن کیسی تعلیم؟ وہ تعلیم جو ہمیں لکیر کا فقیر بنا رہی ہے۔ ہمارے ہاں تین قسم کا پاکستان بستا ہے۔ ایک وہ جو ایچی سن اور گرامر........

© Daily Urdu