World Order Se Disorder Ki Janib

چند دہائیوں کے دوران دنیا میں لبرل ورلڈ آرڈر، انسانی حقوق اور جمہوریت کا اس تواتر سے پرچار رہا کہ تیسری دنیا کے لوگوں میں یہ گمان یقین میں بدل گیا کہ دنیا اب "سدھر" گئی ہے۔ جنگیں، کالونائزیشن اور غلامی قصہ پارینہ ہیں لیکن ہر گزرتے سال جو ثابت ہورہا ہے، وہ بقول خواجہ میر درد:

وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا

ورلڈ آرڈر جس پر ہمارا تکیہ تھا وہ ڈس آرڈر کی جانب گامزن ہے۔ کیوں؟ کیسے؟ یہ سمجھنے کے لیے ٹی وی اسکرینوں کے "ماہرین" کے بجائے پولیٹیکل سائنس کے مستند ماہرین کی ضرورت ہے۔

ان میں ایک نمایاں نام شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر جان میئر شائمر کا ہے۔ انھیں موجودہ عہد کا ایک بڑا "حقیقت پسند" (Realist) مفکر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب The Tragedy of Great Power Politics عالمی سیاست سمجھنے کی کلید ہے۔

جہاں لبرل مفکرین دنیا کو "گلوبل ولیج" اور "مستقل امن" کے سہانے خواب دکھا رہے تھے، وہاں میئر شائمر مسلسل واضح کرتے چلے آئے ہیں کہ بڑی طاقتوں کے درمیان اقتدار کی ہوس اور ایک دوسرے کو کچلنے کا مادہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔

ان کے نزدیک عالمی سیاست اخلاقیات پر مبنی نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت پر مبنی ہے جہاں ریاستیں اپنی بقا کے لیے مستقل خوف اور تصادم کی حالت میں رہنے پر مجبور ہیں۔

یوکرین کی جنگ، غزہ کا ملبہ، وینزویلا کے صدر کی گرفتاری، اس کے تیل پر قبضے پر اصرار، ایران کے ساتھ ٹکراؤ اور چین کے عروج کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بالکل اسی بھیانک ڈگر پر چل نکلی ہے جس کی نشاندہی میئر شائمر نے کی تھی۔ نام نہاد "ورلڈ آرڈر" کا لبادہ تار تار ہو رہا ہے اور ایک ہولناک عالمی "ڈس آرڈر" (انتشار) جنم لے رہا ہے۔

میئر شائمر کی ایک مشہور تھیوری "آفینسیو ریئلزم" ہے جس کی بنیاد پانچ "بیڈراک" یعنی بنیادی مفروضے ہیں۔ اول: عالمی انارکی: بین الاقوامی نظام "انارکک" ہے یعنی ایک مستقل انتشار........

© Daily Urdu