Muqadma e Punjab, Aik Mutabadil Tareekh
"دنیا بھر میں اپنی فوج کو کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ امریکا اپنی طاقت کو منافع اور سیاسی بالادستی کے لیے استعمال کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے"، دنیا کی سپر پاور کے صدر طاقت کے استعمال کے بارے میں اپنا نکتہ نظر واضح کر رہے ہیں۔ یقیناََ کل جب تاریخ لکھی جائے گی تو فاتح ملک کے تاریخ دان اس نکتہ نظر کو خوبصورت پیرایہ پہنا کر پیش کریں گے۔
جو آج ہو رہا ہے یہی ماضی میں ہوتا آیا ہے۔ دور کیا جانا، پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بارے میں جاپان کی نصابی کتابوں میں جاپان کا جو کردار پڑھایا جا رہا ہے وہ مفتوح ملکوں مثلاً جنوبی کوریا اور چین کی نصابی کتب سے بالکل الٹ ہے۔
تاریخ کے ساتھ یہ معاملہ دنیا کی بیشتر قوموں میں بھی ہے لیکن آہستہ آہستہ ماضی کی فاتح طاقتوں کی گھڑی ہوئی تاریخ کو اب چیلنج کیا جا رہا ہے۔ متبادل ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر عوامی تاریخ یا متبادل تاریخ واقعات کو نئے سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرنے کا عمل کم و بیش بہت سے ممالک میں جاری ہے۔
امریکا کے معروف تاریخ دان ہاورڈ زن کے مطابق تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اگر آپ کا مؤقف درست ہے تو آپ کبھی منظر سے غائب نہ ہوں۔ آپ اپنے مؤقف پر سختی سے کاربند رہیں، آپ کا مؤقف حالات کو بدل دیتا ہے۔ سچ اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے چونکہ سچائی کی طاقت جھوٹ کی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔
برصغیر کی تاریخ کے ساتھ بھی کچھ یہی معاملہ ہے۔ برصغیر کئی صدیوں سے حملہ آوروں کا شکار رہا ہے۔ حملہ آوروں نے جو تاریخ لکھی اس میں فاتحین کو مشاہیر اور مقامی لوگوں کو کمزور ثابت کیا۔ ایک مشہور افریقی کہاوت ہے کہ جب تک شیر اپنی کہانی خود نہیں بتاتا تب تک ہمیشہ........
