Aalmi Naqshe: Colonial Taasub Aur Sciency Dhakoslay
عالمی نقشے: کولونیل تعصب اور سائنسی ڈھکوسلے
علامتی سہی لیکن عالمی طور پر یہ ایک انتہائی اہم خبر تھی۔ افریقن یونین کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سولہویں صدی سے رائج مرکیٹر نقشے کی جگہ دنیا کے اصل سائز پر مبنی نقشہ استعمال کرنے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور ہوگئی۔
یہ تبدیلی محض تکنیکی یا "کارٹوگرافک" نہیں بلکہ دنیا کے تمام ممالک اور براعظموں کا حقیقی رقبہ دکھانے والے نقشے (Equal Earth Map) کو اپنانا مغرب کی گزشتہ کئی صدیوں سے قائم اس نفسیاتی اور فکری بنیاد ہلانے کی طرف ایک اہم قدم ہے جسے کولونیل عزائم کی تکمیل کے لیے "سفید فام برتری" اور "ترقی یافتہ تہذیب" کی صورت پوری دنیا پر مسلط کیا گیا۔
ہم اپنی نصابی کتابوں، کلاس رومز اور عام اٹلس میں دنیا کا جو نقشے دیکھتے آئے ہیں وہ سولہویں صدی کے یورپی جغرافیہ دان جیرارڈس مرکیٹر (Gerardus Mercator) کا تیار کردہ نقشہ ہے۔
اگر آپ اس روایتی Mercator Projection کا غور سے جائزہ لیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ گرین لینڈ اور براعظم افریقہ تقریباً ایک ہی جتنا رقبہ رکھتے ہیں جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس اور حیران کن ہے۔ افریقہ کا اصل رقبہ گرین لینڈ کے مقابلے میں 14 گنا بڑا ہے۔ اسی طرح اس نقشے میں براعظم جنوبی امریکا کو یورپ سے چھوٹا دکھایا گیا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی امریکا یورپ کی کل زمین سے تقریباً دگنا بڑا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا Mercator Map کی یہ پیمائشی ڈنڈی محض بحری جہازرانی کے زاویوں کو قائم رکھنے کی ریاضیاتی مجبوری تھی؟ یا پھر اس کے پیچھے ایک گہرا سیاسی اور نفسیاتی مقصد بھی پوشیدہ تھا؟
تاریخ اور معاشی ماہرین کے مطابق یہ محض ایک اتفاقی غلط بیانی نہیں تھی بلکہ ایک نہایت نفیس........
