Karaman Katibeen Ko Saza Dene Ka Agar Ikhtiyar Hota

کراماََ کاتبین کو سزا دینے کا اگر اختیار ہوتا

کہا جاتا ہے کہ شیر شاہ سوری کا پانچ سالہ دور حکومت1540-45ءبر صغیر کا پرامن عہد تھا، روایت ہے بوڑھی عورت سر پر سونے کے زیورات لے کر رات کے اندھیرے میں بھی سفر کرتی تو اسے لوٹنے کی کوئی ہمت نہ کرتا، ایسا کیوں تھا؟ س لئے کہ بادشاہ نے سخت انتظامی اصلاحات نافذ کیں، عدل و انصاف اور جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی، مگر یہ پالیسی دفتری کاغذوں تک محدود نہ تھی، جرائم کو کنٹرول کرنے کے دو طریقہ کار تاریخ میں رقم ہیں، ایک مقامی ذمہ داری کا اصول دوسرا سخت ترین سزاؤں کا نفاذ۔ ان کے دور میں جس علاقہ میں چوری یا ڈکیتی ہوتی، وہاں کے جاگیردار اور تھانیدار کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا اگر وہ مجرم پکڑنے میں ناکام رہتے تومتاثرہ فرد کا نقصان اپنی جیب سے اداکرتے، غیر جانب داری کا عالم یہ تھاعدل و انصاف کی راہ میں خاندان سے قریب ترین عزیز بھی حائل نہ ہو سکتے۔

تاج برطانیہ نے بھی اسی خطہ میں جرائم کنٹرول کرنے کے لئے منظم طریقہ کار اختیار کیا، 1857 کی جنگ آزادی کے بعد 1861 کا پولیس ایکٹ نافذ کیا، مرکزی اور درجہ وار پولیس فورس بنائی، سخت قوانین اور عدالتی نظام متعارف کروایا، جاسوسی اور سرویلنس کامربوط نیٹ ورک بنایا، مقامی سرگرمیوں، مذہبی راہنماؤں، سیاسی جلسوں پر کڑی نظر رکھی جاتی۔ انگریز دور کا قانون اور طریقہ کار ہماری ریاست میں چند ترامیم کے ساتھ نافذ العمل ہے۔

شیر شاہ سوری کا نظام نافذ کرنے میں مگر قباحت یہ کہ انکے فارمولا کے تحت کہ جن کو جرائم کنٹرول کرنے........

© Daily Urdu