Sunnat Ye Bhi Hai
ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے، اس مہینے کو مسلمان عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس میں چراغاں ہوتا ہے، جلوس نکلتے ہیں، فیرنی تقسیم کی جاتی ہے اور میلاد کی محفلیں ہوتی ہیں، یہ سب درست ہے ہمیں یہ کرنا چاہیے کیوں کہ یہ مہینہ پوری انسانیت کے لیے اہم ہے، ہمارے نبی ﷺ اس مہینے دنیا میں تشریف لائے تھے اورہمارے نبیﷺ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی آمد کو انسانوں کے لیے اپنا احسان قرار دیا ہے، آپﷺ انسانیت کے لیے کتنا بڑا احسان ہیں ہمیں یہ سمجھنے کے لیے قبل از اسلام اور بعد کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا، حضور ﷺ کی رحمت کسی خاص وقت اور قوم کے لیے نہیں تھی، آپﷺ ہر دور اور ہر قوم کے لیے رحمت ہیں، اللہ تعالیٰ نے کچھ قوموں کو ایمان کی دولت سے محروم رکھا لیکن اس کے باوجود یہ بھی اس تبدیلی اوررسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے بلاواسطہ فیض حاصل کرنے میں کام یاب رہیں، کیوں؟ اور کیسے؟ ان قوموں نے رسول اللہ ﷺ کا صرف تعلیم کا پیغام لے لیا۔
دنیا میں اسلام سے قبل تعلیم کی اہمیت، افادیت اور اسے حاصل کرنے کی ترغیب اتنی شدت سے کہیں نہیں ملتی، ہمارے نبی ﷺ کی نبوت کی زندگی کا آغاز ہی پڑھنے کے حکم سے ہوا تھا، آپ ﷺ نے تعلیم کے ساتھ شعور و آگاہی کی تحریک شروع کی، ہر مسلمان پر تعلیم حاصل کرنا فرض قرار دیا، مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کے لیے غیر مسلموں سے مدد حاصل کی۔
عین جنگ کے موقع پر اور بعد میں تعلیم پر پوری توجہ دی اور ایک عظیم انقلاب برپا کر دیا، دنیا کی جن قوموں اور ملکوں نے ظہور اسلام کے بعد تعلیم کو ریاست مدینہ کی طرح ترجیح اول بنایا وہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کی امامت کرنے لگیں، آپ کو اگر یقین نہ آئے تو میں ماضی قریب کی تاریخ میں سے صرف دو ملکوں کی تاریخ آپ کے سامنے رکھتا ہوں، آپ کو اس سے ترقی کا راستہ مل جائے گا۔
1950 کی دہائی میں جنوبی کوریا دنیا کا غریب ترین ملک تھا، کوریا کی جنگ نے سب کچھ تباہ کر دیا تھا۔ گاؤں اجڑ گئے، شہر کھنڈر بن گئے، کارخانے ختم ہو گئے اور عوام کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ تھا، بچے بھوک سے روتے تھے اور مائیں ان کو تسلی دیتی تھیں لیکن یہ ان سے کھانے کا وعدہ نہیں کر سکتی تھیں، کوریا میں ایک طرف یہ صورت حال تھی اور دوسری طرف اس........
