menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Rio Secreto

55 0
09.06.2026

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا، مایا لوگ یہ پانی پیتے تھے، پانی میں دو قسم کی مچھلیاں تھیں، زرد رنگ کی چھوٹی سی مچھلی مکمل نابینا تھی، یہ انگریزی میں میکسیکن بلائینڈ کیو فش جب کہ مایا زبان میں (Ogylbia) کہلاتی ہے، یہ ایسے گہرے اندھیرے غار میں پیدا ہوتی ہے جہاں روشنی کی کوئی کرن نہیں جاتی لہٰذا قدرت نے اسے آنکھوں کی نعمت سے محروم رکھا ہے، یہ دیکھ نہیں سکتی، صرف پانی کی لہروں کے اتار چڑھائو سے خطرے کا اندازہ کرتی ہے اور چھٹی حس کے ذریعے اپنے آپ کو بچاتی ہے۔

دوسری مچھلی کیٹ فش کہلاتی ہے، یہ غار کے ان حصوں میں پائی جاتی ہے جہاں تھوڑی تھوڑی روشنی ہوتی ہے، غاروں میں مچھلیوں کی خوراک زیادہ نہیں ہوتی لہٰذا ان کا سائز بھی نہیں بڑھتا، یہ چھوٹی انگلی جتنی رہ جاتی ہیں، غاروں کی دیواریں لائم سٹون کی تھیں، فرش بھی دودھیا لائم سٹون سے بنا ہوا تھا، پانی بھی شفاف تھالہٰذا ٹارچ کی معمولی سی روشنی نے غار کو جگمگا دیا، ہمیں ہر چیز صاف دکھائی دے رہی تھی، مایا لوگ ماضی میں ان غاروں میں پناہ لیتے تھے یا پھر عبادت کے لیے آتے تھے، دیواروں پر مایا لوگوں نے اپنے آثار چھوڑے تھے، یہ قدیم تحریریں تھیں یا پھر ان کے خدائوں کی تصویریں تھیں، جانوروں کے پنجوں کے نشان بھی تھے۔

راہول ہمیں پانی میں ایک ایسے مقام پر لے گیا جہاں زمین کی سطح سفید تھی، راہول نے انگلی سے سطح کو چھیڑا تو سفیدی چونے کی طرح پانی میں مکس ہوگئی، اس نے اس کے بعد تھوڑے سے فاصلے پر ہاتھ لگایا وہاں بھی چونے کا برادہ تھا لیکن وہ اب چٹان بن چکا تھا، اس نے بتایا یہ چٹانیں اور ان کے اوپر موجود فارمیشنز صدیوں تک پانی میں رہنے کی وجہ سے بنی ہیں، ہم اگر یہاں نہ آتے اور اس چونے کو پانی میں مکس نہ کرتے تو یہ بھی سو دو سو سال بعد اس چٹان کا حصہ بن چکا ہوتا۔

وہ اس کے بعد ہمیں ایک چٹان پر لے کر گیا، وہاں زمین سے لائم سٹون کی برچھیاں اوپر اٹھی ہوئی تھیں، اس نے ایک جگہ ہاتھ لگا کر بتایا یہاں ایک میٹر کی پتھریلی سلاخ تھی، سائنس دان اسے نکال کر لیبارٹری میں لے کر گئے، اسے کاٹ کر دیکھا تو پتا چلا یہ ایک میٹر کی سلاخ تین اعشاریہ دو ملین سالوں میں بنی تھی، آپ اس سے غار کی قدامت اور ان فارمیشنز کی عمر کا اندازہ کر لیجیے، ہمیں........

© Daily Urdu