menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pathar Ke Zamane Se Ai Tak (6)

61 0
13.08.2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (6)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہوگئی، میری عمر اس وقت تین برس تھی، ہم گلیانہ روڈ پر رہتے تھے، یہ ایک سائیڈ سے چھائونی اور دوسری طرف سے جی ٹی روڈ سے منسلک تھی، میں نے زندگی میں پہلی بار ٹینک دیکھے، یہ اپنی پٹڑی پر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے، یہ جہاں سے گزرتے تھے وہاں سے سڑک اکھاڑتے چلے جا رہے تھے، ان کے اوپر خاکی یونیفارم میں ملبوس جوان بھی بیٹھے تھے، فوجی ٹرک بھی گزرتے تھے جن میں جوان رائفلوں کے ساتھ بیٹھے ہوتے تھے جب کہ آفیسرز جیپوں میں ہوتے تھے، ہم بچے گھر کی دہلیز پر کھڑے ہو کر یہ سب دیکھتے تھے، ٹینکوں کے وزن سے ہمارے گھر کی دیواریں اور چھتیں تک ہلتی تھیں، لوگ ہاتھ ہلا کر انہیں رخصت کر رہے تھے۔

میں نے اسی زمانے میں پہلی بار ٹیلی ویژن بھی دیکھا، ہماری دکان سے ذرا سے فاصلے پر چھوٹا سا ہوٹل تھا، یہ کسی غیر ملکی پاکستانی نے بنایا تھا اور اس میں چھائونی کے وزیٹرز اور ٹھیکے دار رکتے تھے، ان کے پاس بلیک اینڈ وائیٹ ٹی وی تھا، وہ شام کے وقت صرف تین گھنٹے کے لیے آن ہوتا تھا، ہوٹل کی انتظامیہ اسے لان میں رکھ دیتی تھی اور اس کا منہ سڑک کی طرف کر دیتی تھی، اس زمانے میں ٹی وی کے لیے چھت پر انٹینا ضروری تھا، یہ المونیم کا چھوٹا سا پلیٹ فارم ہوتا تھا جس کے ساتھ چھوٹا سا ریسیور لگا ہوتا تھا، انٹینا چھتوں پر لگایا جاتا تھا، کسی نہ کسی کو اسے گھمانا پڑتا تھا (میں اس کی تفصیل آگے چل کر بیان کروں گا) ہوٹل کے اس ٹی وی کی وجہ سے سڑک پر ٹریفک رک جاتی تھی اور لوگ منہ کھول کر حیرت سے سکرین کی طرف دیکھتے رہتے تھے۔

ہم بچے بھی گھر سے نکل کر وہاں پہنچ جاتے تھے اور سڑک پر کھڑے ہو کر آنکھیں مل مل کر ٹی وی دیکھتے تھے اور سوچتے تھے "بندے اس ڈبے میں گھسے کیسے ہیں؟" میں نے وہاں سڑک پر کھڑے کھڑے فیصلہ کیا، میں بڑا ہو کر اس ڈبے کو کھولوں گا اور اس کے اندر پھنسے بے چارے لوگوں کو رہائی دلائوں گا، آپ اللہ کی کرنی دیکھیے میں جب بڑا ہوا تو میں خود ٹی وی میں گھس گیا اور مجھے اس سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا، اس زمانے میں ٹی وی کی سکرین دھندلی اور بلیک اینڈ وائیٹ ہوتی تھی، وہ لرزتی بھی رہتی تھی اور ہوا کے ساتھ جب انٹینا کی ڈائریکشن دائیں بائیں ہو جاتی تھی تو تصویر کانپتی ہوئی غائب بھی ہو جاتی تھی۔

میرے والد کسی جگہ سے کوئی پرانا ریڈیو لے آئے تھے، یہ چوکور ڈبا تھا جس کے سامنے دو ناب لگی ہوئی تھیں، یہ ریڈیو سیلوں پر چلتا تھا، اس زمانے میں 555 نام کے جاپانی سیل آتے تھے، یہ ریڈیو اور گھڑیوں میں ڈالے جاتے تھے اور زیادہ دن نہیں چلتے تھے، وہ ریڈیو بھی سیلوں پر چلتا تھا، ہمارے ساتھ موجود قصبے لالہ موسیٰ میں پانچ سو پچپن کے جعلی سیل بنائے جاتے تھے، اس کا نیٹ ورک پورے پاکستان میں تھا، دکان دار اکثر اوقات اصلی کے پیسے لے کر جعلی سیل دے دیتے تھے جو بمشکل ایک آدھ دن چلتے تھے، والد صاحب........

© Daily Urdu