menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pathar Ke Zamane Se Ai Tak (2)

67 0
04.08.2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (2)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے، دیواریں گارے کی ہوتی تھیں، لوگ مٹی میں گندم کا بھوسا ملاتے تھے اور پھر اس میں کھڑے ہو کر اسے ننگے پائوں مسلتے (مکس) تھے، پنجابی زبان میں اسے "کہانی کرنا" کہتے تھے، وہ ایک تکلیف دہ ٹاسک ہوتا تھا جو عموماً سخت گرمیوں میں مون سون سے پہلے کیا جاتا تھا تاکہ بارش سے پہلے دیواریں اور چھتیں گرمی کی وجہ سے پک جائیں، دوسرا بارشوں کے موسم میں چھتیں ٹپکنے سے محفوظ رہیں ورنہ دوسری صورت میں سٹور کیا ہوا اناج اور سردیوں کے بستر اور کپڑے گیلے ہو کر خراب ہو جاتے تھے۔

"کہانی" کے عمل کے دوران لوگوں کے پائوں اور پنڈلیوں پر دانے نکل آتے تھے، بعض لوگوں کے پائوں میں کیڑے بھی پڑ جاتے تھے جب کہ سوجن عام تھی، یہ کام عموماً گھر کے لوگ کرتے تھے جن میں عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں، گارے کے تھبے جوڑ کر دیواریں بنائی جاتی تھیں، ان کے اوپر لکڑیوں کی کڑیاں اور شہتیر رکھے جاتے تھے، ان کے اوپر سوکھے ہوئے پتے اور ٹہنیاں رکھی جاتی تھیں اور پھر ان کے اوپر گارے کی ایک ڈیڑھ فٹ موٹی تہہ جمادی جاتی تھی اور اس تہہ کے اوپر نرم اور چمکیلی مٹی کا لیپ کرکے پانی کی ڈھلوان بنا دی جاتی تھی تاکہ بارش کا پانی چھت پر نہ رکے، دیواروں پر بھی نرم مٹی میں بھوسا (ہم اسے پھو کہتے تھے) ملا کر لیپ کیا جاتا تھا اور آخر میں پانی میں نیل گھول کر دیواروں پر پوچا مارا جاتا تھا جس کی وجہ سے دیواریں آسمانی رنگ کی ہو جاتی تھیں، نیل کے ساتھ احتیاطاً تھوڑا سا نیلا تھوتھا بھی ملا دیا جاتا تھا، اس کی وجہ سے مکھیاں اور مچھر گھروں سے دور رہتے تھے، میں نے بچپن میں اپنی دادی اور پھوپھی کو دھریک کے پتے دیواروں اور فرش پر ملتے بھی دیکھا، اس سے دیواروں اور فرش کا رنگ سیمنٹ جیسا ہو جاتا تھا اور یوں لگتا تھا جیسے فرش پر پلستر کیا گیا ہے۔

عید کے نزدیک گھروں میں سویاں بنائی جاتی تھیں، میرے دادا شہر سے سویاں بنانے کی مشین لے آئے تھے، وہ مشین دہائیوں تک چلتی رہی، پورا گائوں اسی سے سویاں بناتا تھا، لوگ اس عمل کو "سویاں ونڈنا" کہتے تھے، عید سے پہلے مشین کو چارپائی کے ساتھ فکس کیا جاتا تھا، تین چار گھنٹے تک مسلسل آٹا گوندا جاتا تھا، وہ جب خوب لیس دار ہو جاتا تھا تو اس کے پیڑے بنا کر مشین میں ڈالے جاتے تھے، مشین مالٹے کا جوس نکالنے یا ہاتھ سے قیمہ بنانے والی مشین جیسی ہوتی تھی، اس کے اوپر کا حصہ خالی ہوتا تھا جس میں پیڑے ڈالے جاتے تھے، اس کے ساتھ لکڑی کے دستے والی ہتھی ہوتی تھی جسے اوپر سے نیچے دائرے میں گھمایا جاتا تھا، مشین کے نیچے جالی ہوتی تھی، اس میں سے سویوں کی لمبی تاریں نکلتی تھیں، عورتیں زمین پر صاف کپڑا بچھا دیتی تھیں، سویوں کو کپڑے پر لمبے رخ لٹا دیا جاتا تھا، وہ جب تھوڑی سی خشک ہو جاتی تھیں تو احتیاط سے اٹھا کر کپڑے سکھانے والی تاروں پر لٹکا دیا جاتا تھا یوں یہ سوکھ کر خستہ ہو جاتی تھیں، گھر کی سویاں موٹی ہوتی تھیں جب کہ شہر سے آنے والی پتلی اور زیادہ خستہ ہوتی تھیں لیکن ہمارے........

© Daily Urdu