Pathar Ke Zamane Se AI Tak (11)
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (11)
ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے، ٹیلی فون اور ٹیلی ویژن، شہر کی پانچ گلیوں میں صرف ایک فون تھا اور اس کا نمبر بھی بہت آسان تھا، ڈبل ون چناں چہ پورے شہر کو ہمارا نمبر حفظ تھا جب کہ آدھے شہر نے اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو ہمارا فون نمبر دے رکھا تھا یوں سال کے اندر اندر ہمارا فون پبلک بوتھ بن گیا، یہ ہر وقت بجتا رہتا تھا اور والد صاحب ہم بچوں کو مختلف گلیوں میں مطلوبہ لوگ تلاش کرنے کے لیے دوڑاتے رہتے تھے، فون کرنے والا صرف یہ بتا کر فون بند کر دیتا تھا آپ فلاں گلی کے فلاں گھر سے فلاں کو بلا دیں، اسے بتائیں اس کے بھتیجے یا بھانجے کا فون ہے، میں آدھ گھنٹے میں دوبارہ فون کرتا ہوں اور والد صاحب ہمیں اٹھا کر "فلاں" کی تلاش میں دوڑا دیتے تھے۔
اس زمانے میں زیادہ تر نام کامن ہوتے تھے چناں چہ ایک ہی گھر میں تین تین ماموں اشرف اور چچی صغریٰ نکل آتی تھیں، ان میں سے کس کے لیے فون آرہا ہے یہ تعین مشکل ہوتا تھا یوں ہمیں ایک کے بعد دوسری چچی صغریٰ کے لیے بھاگنا پڑتا تھا لہٰذا ہم نے اس کا یہ حل نکالا ہم ساری چچی صغریٰ کو ایک ہی بار لے آتے تھے تاکہ یہ خود ہی اپنے بھتیجے یا بھانجے کا فیصلہ کر لیں، اکثر خواتین روٹی توے پر چھوڑ کر یا کپڑے دھوتی ہوئی اٹھ کر آجاتی تھیں، وہ بعدازاں ہمارے گھر یا دکان پر بیٹھ کر دونوں ہتھیلیاں آپس میں رگڑ کر آٹا اور صابن صاف کرتی رہتی تھیں، ان کی اس "کارروائی" کو آخر میں ہمیں صاف کرنا پڑتا تھا، یہ بعض اوقات آدھا آدھا دن بیٹھی رہتی تھیں لیکن بھانجے کا فون نہیں آتا تھا، اس زمانے میں ٹرنک کال ملنا اور وہ بھی دوسری بار خاصا مشکل ہوتا تھا، والد صاحب شروع میں اپنی "ٹیلی فونک" شہرت کو بہت انجوائے کرتے تھے لیکن پھر یہ اکتا گئے کیوں کہ اکثر فون آڈ ٹائم پر آتے تھے۔
اس زمانے میں رات کی کال سستی ہوتی تھی لہٰذا لوگ عموماً رات کے وقت کال کر دیتے تھے اور ہمیں سردیوں کی یخ راتوں کو اٹھ کر لوگوں کو بلانا پڑتا تھا، سردیوں کی رات میں جاگنا اور پھر آدھ آدھ گھنٹہ دوسرے لوگوں کے دروازے بجا بجا کر اعلان کرنا چچا آپ کا فون آیا ہے، یہ خاصا تکلیف دہ عمل تھا، اس دوران اکثر ان کے ہمسائے بھی جاگ جاتے تھے اور وہ بھی "اللہ خیر کرے" کا ورد کرتے ہوئے ساتھ ہی آ جاتے تھے، والد صاحب نے دکان اور گھر دونوں میں دو سیٹ لگوائے ہوئے تھے چناں چہ ایک فون دوسیٹوں پر بجتا تھا، یہ بھی خاصا اذیت ناک ہوتا تھا، ہمارا گھر چھوٹا تھا، رات کے وقت پانچ دس لوگوں کو بٹھانا مشکل تھا اور وہ بھی اس عالم میں کہ بعض اوقات دوسری طرف سے ساری ساری رات کال نہیں آتی تھی۔
اس زمانے میں لائنیں محدود تھیں جس کی وجہ سے کال نہیں ملتی تھی اور اس کے نتیجے میں کال کے منتظر لوگوں کو ساری رات فون کے قریب بیٹھنا پڑتا تھا اور ان کے لیے ہم بھی جاگتے رہتے تھے، میری والدہ ان لوگوں کو مہمان سمجھتی تھیں، انہیں بھی اٹھ کر ان کی مہمان........
