menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Operation Bunyan Ul Marsoos (2)

63 0
03.05.2026

آپریشن بنیان المرصوص (2)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر پہنچ کر ختم ہوگیا لیکن آپ اللہ کا کرم اور فضل دیکھیے، اگست 2015ء میں بورڈ ہوا، یہ والدہ کی دعائیں لے کر گئے اور معجزانہ طور پر پروموٹ ہوکر ائیر وائس مارشل بن گئے، انہیں ناردرن کمانڈ کا ائیر آفیسر کمانڈ (AOC-NAC) بنا دیا گیا۔

2015ء میں ائیرفورس کی چار کمانڈز ہوتی تھیں، نادرن ائیر کمانڈ، سدرن ائیرکمانڈ، سنٹرل ائیر کمانڈ اور ائیرڈیفنس کمانڈ، ان کمانڈز میں اب اضافہ ہو چکا ہے، یہ نادرن ائیرکمانڈ کے کمانڈر بن گئے، کمانڈ کا ہیڈکوارٹر پشاور میں ہے، چکلالہ ائیربیس اور چکوال بیس اسی کمانڈ کا حصہ ہیں، اے وی ایم ظہیر احمد بابر نے ناردن کمانڈ سنبھال لی لیکن چند ہفتے بعد 18 ستمبر 2015ء کو بڈا بیر کیمپ پر دہشت گردوں کا حملہ ہوگیا، وہ حملہ ٹی ٹی پی نے کیا تھا۔

صبح پانچ بجے 14 دہشت گرد ایف سی کی یونیفارم میں کیمپ میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، ان کے پاس راکٹ بھی تھے، دہشت گرد کیمپ میں داخل ہو کر دو حصوں میں تقسیم ہو گئے، ایک گروپ نے ایڈمنسٹریشن بلاک کو نشانہ بنایا جب کہ دوسرا رہائشی بلاک کی طرف نکل گیا اور جوانوں اور ٹیکنیکل سٹاف کو نشانہ بنانے لگا، دہشت گردوں نے مسجد میں گھس کر نمازیوں کو بھی شہید کر دیا، اس حملے میں 29 آفیسر اور جوان شہید ہو گئے، بعدازاں آرمی کوئک فورس نے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

فوج میں اس نوعیت کے واقعات کو کمانڈر کی نالائقی سمجھا جاتا ہے چناں چہ یہ واقعہ بھی دھبہ بن کر ان کے کیریئر پر لگ گیا، ناردرن کمانڈ کے بعد یہ وزارت دفاع میں ٹرانسفر کر دیے گئے، انہیں ایڈیشنل سیکرٹری بنا دیا گیا، یہ ایک کھڈے لائین پوسٹنگ ہوتی ہے جس کے بعد ننانوے فیصد آفیسر ریٹائر ہو جاتے ہیں اور کبھی واپس ائیرہیڈ کوارٹر کا منہ نہیں دیکھ پاتے، انہیں بڈابیر واقعے کے بعد 2016ء میں وزارت دفاع بھجوا یا گیا تھا یہاں پہنچ کر ایک بار پھر بظاہر ان کا کیریئر ختم ہوگیا لیکن اس کے بعد چند عجیب واقعات ہوئے اور ان واقعات نے تاریخ بدل کر رکھ دی۔

مارچ 2018ء میں مجاہد انور خان ائیرچیف مارشل بن گئے، ائیروائس مارشل ظہیر احمد بابر کا بورڈ ہوا، یہ بھی پروموٹ ہو کر ائیر مارشل ہو گئے، پاک ائیرفورس میں اس زمانے میں 50 سے 55 ائیر وائس مارشل ہوتے تھے جب کہ ائیر مارشل کی تعداد چھ یا سات تھی، یہ تھری سٹار جنرلز کے برابر ہوتے ہیں، ان کے کندھوں پر بھی تین ستارے لگتے ہیں اور صرف جی ڈی پائلٹس اس عہدے تک پہنچ پاتے ہیں۔

آپ اللہ کا کرم دیکھیے ظہیر احمد بابر کھڈے لائین پوسٹنگ پر بھی ائیرمارشل بن گئے جس کے بعد یہ ائیرفورس سٹریٹجک کمانڈ (AFSC)کے ڈی جی بنا دیے گئے، یہ کمانڈ بہت اہم ہوتی ہے، ائیرفورس کا میزائل پروگرام اس کے زیرکمانڈ ہوتا ہے، یہ اس لیول تک پہنچ کر سنیارٹی میں........

© Daily Urdu