menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mazhbi Jang (5)

48 0
19.03.2026

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے تقسیم کیے، ہندوستان اور فلسطین۔ ان دونوں خطوں کی تقسیم عالمی سازش تھی اور اس سازش نے 80 سال سے دنیا کو امن اور چین سے نہیں بیٹھنے دیا یہاں تک کہ یہ تقسیم اب دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دھانے پر لے آئی ہے، یہ تقسیم سازش تھی، میں آگے چل کر اس پر بات کروں گا لیکن آپ پہلے اسرائیل کے چند حقائق جان لیں۔

ڈیوڈ تھیوڈور ہرزل کی صہیونی تحریک پرعثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید دوم کی اجازت سے سب سے پہلے روس سے اشک نازی یہودی لا کر فلسطین میں آباد کیے گئے، دوسری آبادکاری 1903ء میں ہوئی، اس میں بھی یورپ اور شمالی امریکا سے اشک نازی لائے گئے، تیسری آباد کاری 1918ء سے 1924ء کے درمیان ہوئی، اس میں دوبارہ روس سے اشک نازی لا کر آباد کیے گئے، چوتھی آباد کاری 1932ء میں ہوئی اور اس میں پولینڈ کے اشک نازی آئے اور پانچویں آباد کاری 1933ء سے 1939ء کے دوران ہوئی اور اس میں جرمنی کے اشک نازی فلسطین لائے گئے گویا برطانیہ جان بوجھ کر شروع میں اشک نازیوں کو لے کر آیا تاکہ یہ فوج بنا سکیں اور مسلمانوں کو بزور بازو یہاں سے نکال سکیں یوں فلسطین اور بعد ازاں اسرائیل میں اشک نازیوں کا غلبہ ہوگیا، یہ آج بھی اسرائیل کے تمام اہم اور فیصلہ ساز اداروں میں بیٹھے ہیں، یہ جنگجو، ظالم، طالع آزما اور شرارتی لوگ ہیں چناں چہ ان کی وجہ سے 80 برس میں اسرائیل کے عوام نے سکھ کا سانس لیا اور نہ ان کی وجہ سے دنیا نے امن کی کوئی رات گزاری۔

ہم اب تقسیم کی سازش کی طرف آتے ہیں، دوسری جنگ عظیم میں دنیا میں ایک نیا سٹیک ہولڈر سامنے آیا، اس کا نام امریکا تھا، اس وقت تک عرب علاقوں میں تیل نکل چکا تھا، اللہ تعالیٰ نے تیل اور گیس کا سب سے بڑا ذخیرہ مسلمان ملکوں کو دیا تھا اور یہ آنے والے وقتوں کی سب سے بڑی دولت تھی، امریکا اور اس کے اتحادی یورپ کا خیال تھا مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے اور یہ نڈر اور جذباتی بھی ہیں، ان کے پاس صرف وسائل اور مواقع کی کمی ہے، تیل ان کی یہ کمی پورے کر دے گا جس کے بعد یہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن جائیں گے لہٰذا ان کوتقسیم رکھنا، خوف زدہ رکھنا اور یورپ اور امریکا کا باج گزار رکھنا ضروری ہے، اسرائیل اس کام کے لیے بنایا گیا تھا۔

یہودی 2700 سال سے دربدر تھے، یہ اپنا ملک چاہتے تھے، یہ کسی بھی قیمت پر حضرت دائودؑ اور حضرت سلیمانؑ کی ریاست واپس چاہتے تھے، امریکا اور برطانیہ نے ان کی اس خواہش کو خنجر کی شکل دے دی، آپ اسرائیل کا نقشہ دیکھیں، یہ آپ کو خنجر جیسا محسوس ہوگا، یہ واقعی خنجر ہے اور اس کا مقصد عرب حکمرانوں کے دل میں خوف پیدا کرنا اور انہیں آپس میں لڑاتے رہنا تھا، یورپ اور امریکا آمریت اور بادشاہت کے خلاف ہیں لیکن تیل پیدا کرنے والے تمام اسلامی ملکوں میں بادشاہت اور آمریت ہے اور امریکا اس آمریت اور بادشاہت کا دوست اور سپورٹر ہے، کیوں؟ آپ نے کبھی سوچا؟

امریکا اور یورپ نے پہلے تیل پیدا کرنے والے ملکوں پر بادشاہ بٹھائے اور پھر یہ ان بادشاہوں کے دلوں میں 80 سال سے دو خوف بٹھا رہے ہیں، ایک اگر ہم نہ ہوئے تو اسرائیل آپ کو کھا جائے گا، یہ پورے عرب ملکوں کو گریٹر اسرائیل سمجھتا ہے اور ہم اس کے اس عزم کے راستے میں رکاوٹ ہیں، دوسرا ہم نہ ہوئے تو عوام آپ کا........

© Daily Urdu