Mazhbi Jang (1)
رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے، یہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے تھے، ان کے دور میں 1972ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر میں جاسوسی کے آلات لگا دیے گئے تھے، رچرڈ نکسن کے ساتھی ان آلات کے ذریعے ری الیکشن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حکمت عملی سنتے رہتے تھے، واشنگٹن پوسٹ کے دو رپورٹرز باب وڈورڈ اور کارل پرنسٹن کو بھنک پڑ گئی، انہوں نے تحقیقات کیں اور خبر شائع کر دی، سٹوری شائع ہوئی اور رچرڈ نکسن کا سیاسی کیریئر ختم ہوگیا۔
ڈیموکریٹک پارٹی کا دفتر واشنگٹن میں واٹر گیٹ کمپلیکس میں تھا لہٰذا یہ خبر اس مناسبت سے واٹر گیٹ سکینڈل کے نام سے مشہور ہوئی اور یہ ہر دور میں دنیا کی سب سے بڑی خبر رہی، رچرڈ نکسن عیسائی تھا لیکن وہ مذہب پر زیادہ یقین نہیں کرتا تھا، چرچ بھی نہیں جاتا تھا اور پادریوں کو بھی ناپسند کرتا تھا، ہنری کسنجر اس کا وزیر خارجہ تھا، وہ بھی "نان پریکٹسنگ" یہودی تھا، اس کے خیالات بھی مذہب کے خلاف تھے۔
واٹر گیٹ سکینڈل جب پیک کو چھو رہا تھا تو ایک رات رچرڈ نکسن نے ہنری کسنجر کو وائیٹ ہائوس بلایا، کسنجر کو محسوس ہوا یہ ایمرجنسی ہے، وہ دوڑ کر اوول آفس پہنچا، نکسن نے دفتر کا دروازہ بند کیا اور کسنجر سے مخاطب ہوا "میں کمزور عقیدہ عیسائی ہوں، تم بھی نام کے یہودی ہو لیکن میں اس کے باوجود محسوس کرتا ہوں اگر ہم مل کر عبادت کریں تو شاید ہمارے مسائل کم ہو جائیں، شاید خدا کو ہم پر رحم آ جائے"۔
رچرڈ نکسن اس کے فوراً بعد گھٹنوں کے بل کھڑا ہوگیا اور بیت المقدس کی طرف منہ کرکے بائبل کی آیات تلاوت کرنے لگا، ہنری کسنجر اس کا ماتحت تھا چناں چہ وہ بھی فوری طور پر اس کے پیچھے گھنٹوں کے بل کھڑا ہوا اور عبرانی زبان میں خدا سے مدد مانگنے لگا۔
یہ واقعہ ہنری کسنجر نے لکھا اور متعدد بار اپنی تقریروں میں بیان کیا، یہ انسان کی فطرت کو ظاہر کرتا ہے، ہم انسان بنیادی طور پر کمزور واقع ہوئے ہیں، ہمیں بعض اوقات ہمارا پیشہ، عہدہ یا ذمہ داری مضبوط، اٹل یا ناقابل شکست بنا دیتی ہے لیکن ہم جوں ہی زندگی کے کسی حصے میں "واٹرگیٹ" جیسی صورت حال کا شکار ہوتے ہیں تو ہم خواہ رچرڈ نکسن ہوں یا ہنری کسنجر، ہم خواہ وائیٹ ہائوس کے مضبوط ترین دفتر اوول آفس میں بیٹھے ہوں یا دکان کے تھڑے پر ہم بے اختیار خدا کے سامنے "نیل ڈائون" ہو جاتے ہیں اور اس معاملے میں امریکی صدر سے لے کر حاجی عبداللہ تک سب برابر ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے سکندر اعظم بھی دیوتائوں کے نمائندے ساتھ لے کر جنگوں پر روانہ ہوتا تھا، دارا کا بھی اپنا پیر تھا، چنگیز خان کا کوئی مذہب نہیں تھا لیکن وہ بھی جنگوں میں عیسائی، مسلمان، بودھ اور ہندو چاروں مذاہب کے علماء سے دعا کراتا تھا، امیر تیمور بے انتہا ظالم شخص تھا، وہ بھی جنگ سے پہلے نماز پڑھ........
