Balochistan Doob Raha Hai (8)
بلوچستان ڈوب رہا ہے (8)
بلوچستان کا تیسرا بڑا مسئلہ اس کے سردار ہیں، بلوچستان میں اس وقت ستر سے اسی بڑے سردار ہیں، ان میں بگٹی، مری اور مینگل زیادہ مضبوط ہیں، اورنگزیب عالمگیر کے دور میں مغلوں نے سرداروں کو سالانہ وظیفہ دے کر دہلی کے تخت کا وفادار بنا لیا تھا، مغلوں کا اقتدار کم زور ہوا تو یہ احمد شاہ ابدالی کے سائے میں چلے گئے، احمد شاہ ابدالی ماڈرن افغانستان کا بانی تھا، لفظ افغانستان بھی ابدالی نے ایجاد کیا تھا، اس نے اپنی پشت محفوظ رکھنے کے لیے بلوچ سرداروں کے ساتھ اتحاد کر لیا، وہ ان کی اور یہ اس کی حفاظت کرتے رہے۔
انگریز آیا تو اس نے سسٹم کو زیادہ بہتر اور آسان بنا دیا، اس نے موجودہ بلوچستان میں بلوچ اور پشتونوں کے درمیان نفرت کو ہوا دی، سرداروں کو آپس میں تقسیم کیا اور ان سب کو وظائف دے کر دہلی کا وفادار بنا لیا، انگریز کے دور میں بلوچستان اے اور بی دو ایریاز میں تقسیم ہوا، اے ایریا میں انگریز کی حکومت اور سسٹم تھا جب کہ بی ایریا سرداروں کے قبضے میں رہا، حکومت سرداروں کو امن و امان کی حفاظت کے لیے سالانہ وظیفہ دیتی تھی، سردار اس کے عوض اپنی پرائیویٹ پولیس بناتا تھا اور وہ پولیس سڑکوں اور ریلوے لائینز کی حفاظت کرتی تھی، یہ علاقے میں جرائم پر بھی قابو رکھتی تھی، سرداروں کی یہ پولیس لیوی یا لیویز کہلاتی تھی۔
1948ء میں بلوچ ریاستوں کے انضمام کے بعد اصولی طور پر یہ سسٹم ختم ہو جانا چاہیے تھا اور بلوچستان میں بھی پنجاب، سندھ اور صوبہ سرحد کی طرح وفاقی اور صوبائی انتظامی نظام نافذ ہو جانا چاہیے تھا لیکن اس وقت ملک سیاسی طوائف الملوکی کا شکار تھا، حکومتیں تیزی سے تبدیل ہو رہی تھیں، بھارتی وزیراعظم نہرو نے اس سیاسی بحران کے بارے میں ٹھیک کہا تھا، میں سال میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنی پاکستان میں حکومتیں بدل جاتی ہیں چناں چہ پاکستانی حکومتوں نے بلوچستان کو جوں کا توں یعنی انگریز کے سسٹم کے مطابق چلنے دیا یوں اس کا 95 فیصد علاقہ آزادی کے بعد بھی بی ایریا رہا، سردار وفاق سے وظیفہ وصول کرتے رہے اور ان کی پرائیویٹ پولیس یا فوج بدستور قائم رہی، سرداروں کی فوج ان کے قبائلی لوگ ہوتے تھے، یہ ان کے باج گزار اور وفادار ہوتے تھے، سردار کا حکم ان کے لیے ریاست سے اہم ہوتا تھا۔
حکومت کی سرداروں کے معاملے میں دوسری بڑی غلطی انہیں اقتدار میں شامل کرنا تھا، بلوچستان میں 1972ء میں پہلے وزیراعلیٰ نے اقتدار سنبھالا، یہ سردار اختر مینگل کے والد سردار عطاء اللہ مینگل تھے، اس کے بعد سرداروں کی لائین لگ گئی، ایک سردار کو ہٹا کر دوسرا سردار لایا........
