Avatar Mountain |
اواتار فلم 2009ء میں آئی، پوری دنیا میں دیکھی گئی اور اس نے ریکارڈ قائم کر دیا، یہ فلم جیمز کیمرون نے بنائی تھی، باکس آفس میں تین بلین ڈالر کا بزنس کرکے یہ سینما کی تاریخ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی، اواتار کا پلاٹ 2154ء کے سائنسی تجربے گرد گھومتا ہے، فلم میں دکھایا گیا 22ویں صدی میں زمین کے قدرتی وسائل ختم ہو گئے ہیں اور انسانوں کے لیے یہاں زندگی گزارنا مشکل ہوگیا، سائنس دانوں کو پھر اچانک زمین کے قریب پنڈورا نام کا انتہائی سرسبز، خوب صورت اور کیمیائی مادوں سے پاک چاند مل جاتا ہے جس پر ناوی (Navi) نام کی خلائی مخلوق رہتی ہے، چاند پر انتہائی قیمتی اور کم یاب دھات انوٹینیم (Unobtanium) بھی موجود ہے۔
ناوی دس فٹ کے نیلے رنگ کی مخلوق ہیں، نیچرل زندگی گزارتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے روحانی لحاظ سے بہت مضبوط لوگ ہیں، پنڈورا بہت خوب صورت ہے لیکن انسان وہاں سروائیو نہیں کر سکتے چناں چہ سائنس دان لیبارٹری میں انسانی ڈی این اے سے اواتار بناتے ہیں، یہ شکل سے ناوی لگتے ہیں لیکن اندر سے انسان ہیں، ان ناوی نما انسانوں کو پنڈورا پر اتار دیا جاتا ہے اور اس کے بعد ایک نئی کہانی شروع ہو جاتی ہے، اواتار کا نوے فیصد حصہ فلم سازی کی نئی تکنیکس ایچ ایف آر (High Frame Rate) اور سی جی آئی (Computer-Generated Imagery) کے ذریعے بنایا گیا اور اس نے آگے چل کر فلم سازی کا پورا رجحان بدل دیا۔
بہرحال قصہ مختصر فلم میں پنڈورا کا وہ حصہ دکھایا گیا جس میں ناوی لوگ رہتے ہیں، یہ انتہا درجے کا سرسبز علاقہ ہے جس میں جنگلوں کے عین درمیان بلند چٹانیں ہیں، ان چٹانوں پر بھی جنگل ہیں، چٹانیں ستونوں کی طرح وادی کے درمیان کھڑی ہیں اور اوپر سے ان کا پیندہ دکھائی نہیں دیتا، وادی میں ایسے گھنے جنگل ہیں جو وادی کے کناروں تک آتے ہیں، فلم میں یہ جگہ اتنی خوب صورت تھی کہ لوگوں نے اسے تلاش کرنا شروع کر دیا، تلاش کے دوران پتا چلا یہ چین کے شہر چانگ چاچے کے نیشنل پارک کی گریٹ کینین ہے، سیاحوں نے اس کے بعد اس مقام کی طرف دوڑنا شروع کر دیا، حکومت کو پتا چلا تو اس نے علاقے کا نام "اواتار مائونٹین" رکھ کر سیاحتی سرگرمیاں شروع کر دیں اور یہ اس وقت چین کی بڑی سیاحتی منزل بن چکی ہے۔
ہم فورنگ ٹائون سے اواتار مائونیٹن کی طرف روانہ ہوئے، یہ چانگ چاچے کے قریب ہے، حکومت نے اسے شان دار سڑکوں، وسیع پارکنگ اور شاپنگ ایریا کے ساتھ جوڑ کر "اپروچ........