menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

2076

252 0
26.07.2026

آئزل میری پوتی ہے، یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا دن شرارتیں اور باتیں کرتی رہتی ہے، ہم نے اسے سکول داخل کرا دیا ہے، یہ سکول سے سیدھی میرے پاس آتی ہے، میں نے اپنی دراز میں چاکلیٹ رکھے ہوئے ہیں، یہ اس دراز پر حملہ کرتی ہے، چاکلیٹ کھاتی ہے، بیڈ پر بیٹھ کر ٹانگیں ہلاتی ہے اور پھر سکول کی ساری باتیں بتاتی ہے اور آخر میں اس کی فرمائش ہوتی ہے میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اوپر اس کے والدین کے کمرے میں چھوڑ کر آئوں۔

یہ روز کا معمول ہے بس جمعہ کے دن تھوڑی سی تبدیلی آتی ہے، اس دن میں اور میری بیوی اسے سکول سے لیتے ہیں اور اسے کسی اچھے سے ریستوران میں کھانا کھلاتے ہیں، اس دن یہ شاپنگ بھی کرتی ہے اور آئس کریم بھی کھاتی ہے، میں کل اس کے ساتھ بیٹھے بیٹھے سوچ رہا تھا آج سے ٹھیک 50 سال بعد یعنی 2076ء میں ہماری سنگت اور اس محبت کی کیا نوعیت ہوگی؟

مجھے محسوس ہوا محبت اور سنگت کا یہ سارا کھیل اس وقت تک بکھر چکا ہوگا، میں اور میری بیوی دونوں قبروں میں لیٹے ہوں گے اور ہماری ہڈیوں کا بھی حساب ہو چکا ہوگا، آئزل کی عمر اس وقت 53 سال ہوگی، اس کے اپنے بچے جوان ہو چکے ہوں گے اور شاید ان میں سے کسی کی شادی بھی ہو چکی ہو اور وہ میرے وجود سے بھی واقف نہیں ہوں گے، آئزل بھی اپنے بچپن کو بھول چکی ہوگی، اسے یہ سکول، یہ چاکلیٹ اور دادا کے ساتھ گپ شپ کچھ یاد نہیں ہوگا، زندگی کے دکھ اور پریشانیاں ان یادوں کی جگہ لے چکے ہوں گے، اس کے والدین 80 سال کے ہوں گے اور بیمار، لاغر اور زندگی سے بیزار ہوں گے، یہ اگر ان کے قریب ہوئی تو یہ دن میں ایک آدھ بار ان سے رابطہ کرکے حال احوال پوچھ لے گی ورنہ دوسری صورت میں یہ بے چارے اسے یاد کرکے روتے رہیں گے۔

2076ء تک یہ سکول، اس کی ٹیچرز، سلیبس، شہر کا نقشہ، یہ گیمز، یہ پارکس، یہ ریستوران، چاکلیٹ کے یہ فلیورز اور زندگی کے یہ سارے رنگ ڈھنگ ختم ہو چکے ہوں گے، یہ گھر جسے بنانے میں میری پوری زندگی لگ گئی یہ تقسیم در تقسیم ہو کر ختم ہو چکا ہوگا اور نئے مالکان نے اسے گرا کر اس کی جگہ نئی بلڈنگ بنا لی ہوگی اور اسے گراتے ہوئے نئے مالکان نے ایک لمحہ کے لیے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا اس میں ایک دادا اور اس کی تین سال کی پوتی کی محبت نے پرورش پائی تھی، اس کے ایک کمرے کی بیڈ سائیڈ کے دراز میں چاکلیٹ پڑے ہوتے تھے، تین سال کی بچی آہستہ آہستہ، چپکے چپکے سیڑھیاں اتر کر آتی تھی، دادا جھوٹی موٹی دوسری طرف منہ کرکے........

© Daily Urdu