menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zinda Rehne Ka Saboot

24 0
18.08.2026

میرے قریبی ہمسائے ظہور ندیم صاحب جو محکمہ تعلیم سے ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن پر اپنا گزارہ کرتے ہیں۔ ایک روز بڑے پریشان دکھائی دیے پوچھنے پر بتایا کہ اس ماہ بینک سے پینشن نہیں مل سکی اس لیے تھوڑی مالی پریشانی ہے اور وجہ یہ بتائی کہ وہ بنک کو ہر چھ ماہ بعد زندہ رہنے کا سرٹیفیکیٹ فراہم نہیں کرسکے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ جب پینشن لینے والا خود سامنے موجود ہے تو اس کی شناخت کی بجائے زندگی کا سرٹیفیکیٹ کیوں طلب کیا جاتا ہے؟ تو معلوم ہوا کہ پینشن لینا بھی آسان نہیں ہے۔

پنشنرز کے مسائل میں ایک ایسا پہلو بھی ہے جو نہ صرف تکلیف دہ بلکہ ان کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کرتا ہے۔ ہر چھ ماہ بعد "لائف سرٹیفکیٹ" یا زندہ ہونے کا ثبوت جمع کرانا لازم قرار دیا جاتا ہے، بصورتِ دیگر پنشن روک دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی پوری زندگی ریاست کی خدمت کی، کیا بڑھاپے میں اسے اپنی موجودگی کے باوجود بار بار یہ کسی دوسرئے سے ثابت کروانا ضروری ہے کہ وہ ابھی زندہ ہے؟

عمر رسیدہ افراد میں بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو بیماری، معذوری یا نقل و حرکت کی دشواری کے باعث بینک یا متعلقہ دفتر تک پہنچنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات صرف ایک سرٹیفکیٹ بروقت جمع نہ ہونے کی وجہ سے ان کی پنشن روک دی جاتی ہے، حالانکہ یہی رقم ان کے علاج، ادویات اور روزمرہ اخراجات کا واحد سہارا ہوتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے بروقت یہ زندگی کا ثبوت پیش نہ کیا جاسکے تو پچھلی تاریخوں سے اپنے زندہ ہونے کو ایک کاغذی تصدیق نامے سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ ٹیکنالوجی کے اس جدید........

© Daily Urdu