Till Ke Laddu

اس سال بہاولپور جیسے صحرائی اور گرم ترین علاقے میں سردی اتنی شدید تھی کہ: "سردی سے دانت بجنے" کا مطلب سمجھ میں آگیا۔ اسی دوران گذشتہ دنوں میری ایک بھتیجی راحت بڑی محبت سے میرے لیے السی کا خشک حلوہ بنا کر سردیوں کا تحفہ لائی تو مجھے بےساختہ اپنی زندگی کے کچھ کڑے دن اور امی جان کے ہاتھوں کے بنے گڑ، تل، آٹے اور دیسی گھی کی خوشبو والے وہ تلوں کے لڈو یاد آگئے میں نےشکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ حلوہ بہت اچھا ہے مگر ان تلوں کے لڈوں کا مقابلہ نہیں کرتا جو ہماری ماں سخت سردیوں میں باورچی خانے میں سوکھی لکڑی جلا کر مٹی کے چولہے پر بنایا کرتی تھیں اور پھر انہیں ایک پرانے گھی کے کنستر میں بھر کر رکھ لیتی تھیں۔ ان میں سے کچھ وہ روزآنہ ہمیں خود دیا کرتی تھیں اور کچھ ہم چوری سے نکال کر کھاجاتےتھے اور وہ گن کر تو نہ رکھتی تھیں مگر کہتی تھیں کہ "لڈو مجھے کچھ کم کم لگ رہے ہیں؟" چوری کے لڈو کا ذائقہ الگ ہی ہوتا تھا۔ اب اپنے ان دنوں پر نظر ڈالتا ہوں تو ایک خواب سا لگتا ہے۔

میری زندگی کے سب سے کڑے اور مشکل دن وہ تھے جب میں نے 1976ء میں اپنی بنک سروسز کا آغاز حبیب بنک لمیٹد کی جیٹھ بھٹہ برانچ سے کیا۔ یہ برانچ اس وقت حئی سنز شوگر ملز کے اندر ہوا کرتی تھی اور تمام علاقے کی گنے کی کیش پے منٹ اسی برانچ سے ہوا کرتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پبلک ٹرانسپورٹ بہت کم ہوا کرتی تھی لوگ زیادہ ٹرین سے ہی سفر کرتے تھے۔ ایک جگہ جگہ ٹھہرنے والی لوکل بس احمدپور شرقیہ سے خان پور کے لیے صبح چھ بجے روانہ ہوتی اور وہی شام کو واپس آتی تھی سڑکوں کا برا حال ہوا کرتا تھا یعنی ایک تو سڑک سنگل پھر جگہ جگہ سے ٹوٹی پھوٹی یا کچی ہوا کرتی تھی۔

میں غالباََ نومبر کے سرد ترین دنوں میں وہاں پہنچا تو رہنے کی جگہ نہ تھی۔ برانچ منیجر اور........

© Daily Urdu