Retirement Aur Rishton Ki Haqiqat |
ریٹائرمنٹ اور رشتوں کی حقیقت
ریٹائرمنٹ انسان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ہوتا ہے۔ یہ صرف نوکری کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک شناخت، معمول اور سماجی مقام میں تبدیلی کا نام ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرئے میں اکثر اس کے بعد گھر والوں، ساتھیوں اور دوستوں کے رویوں میں جو تبدیلی آتی ہے وہ کئی تلخ حقیقتوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ مجھے اکثر ریٹائرڈ دوستوں سے ملنے اور ان کے دکھ سننے کا موقع ملتا رہتا ہے اور مجھے ان کی ملازمت کے دوران سج دھج اور دبدبہ یاد آتا ہے اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد سادگی کا پیکر بنا دیکھ کر میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا واقعی ریٹائرمنٹ ایک ایسی تبدیلی کا نام ہے جو زندگی کو یکسر بدل دیتی ہے؟
زندگی کے دفتر میں ایک دن ایسا بھی ضرور آتا ہے جب حاضری رجسٹر میں نام تو موجود ہوتا ہے، مگر سامنے "ریٹائرڈ" کی مہر لگ چکی ہوتی ہے۔ یہ مہر صرف کاغذ پر نہیں لگتی، اکثر یہ انسان کے گرد بسے رویوں اور لہجوں پر بھی ثبت ہو جاتی ہے۔ کل تک وہی شخص جو دفتر میں داخل ہوتا تو چپڑاسی دروازہ کھول کر کرسی سیدھی کرتا تھا اور فائلیں اس کے اشارے کی منتظر ہوتیں اور ماتحت اس کے ایک جملے کو حکم سمجھتے تھے۔ جس کے فیصلوں پر عمل ہوتا تھا اور وہ اپنے ادارئے کا ایک ستون سمجھا جاتا تھا، وہی شخص اپنے ہی گھر میں ایک غیر محسوس سی موجودگی بن کر رہ جاتا ہے نہ اس کی بات ہی پہلے جیسی اہمیت رکھتی ہے اور نہ اس کی رائے کو وزن دیا جاتا ہے۔
آج وہی شخص گھر میں پانی کے ایک گلاس اور چائے کے کپ کے لیے بھی کبھی کبھار خود ہی اٹھنا سیکھ لیتا ہے اور اگر ذرا دیر سے چائے ملے تو جواب آتا ہے: "اب آپ فارغ ہی تو ہیں، خود بھی بنا سکتے ہیں یہ جملہ بظاہر ہلکا سا مزاح رکھتا ہے، مگر اس میں چھپی حقیقت دل کو چبھ سی جاتی ہے۔
ایک صاحب کا واقعہ سنیے۔ پوری زندگی سرکاری محکمے میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ ریٹائر ہوئے تو پہلے دن بڑے اہتمام سے تیار ہو کر بیٹھ گئے، جیسے دفتر جانا ہو۔ بیگم نے پوچھا: "آج کہاں کا ارادہ ہے؟" مسکرا کر بولے: "بس عادت ہے، سوچا کہیں جانا ہو تو........