Bhaye Ka Bhoot

امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ کے بارئے میں میرے گذشتہ کالمز"جذبہ اور ٹیکنالوجی" اور "امید کی شمع روشن رکھیں" میں کیے جانے والا تجزیہ حیرت انگیز طور پر درست ثابت ہونے پر مجھے بہت سے قاری حضرات اور دوستوں نے ناصرف سراہا ہے بلکہ آئندہ کے بارئے میں کئی سوال بھی کئے ہیں۔ میری دوستوں اور چاہنے والوں سے مودبانہ گزارش ہے کہ میں نہ تو کوئی دفاعی تجزیہ نگار ہوں اور نہ ہی انٹرنیشنل معاملات کا ماہر ہوں اس لیے میں تو صرف تاریخی حقائق کے تناظر میں اپنی رائے دیتا ہوں جو اکثر درست ثابت ہو جاتی ہے کیونکہ تاریخ ہوتی ہی سبق حاصل کرنے اور سیکھنے کے لیے لکھی اور محفوظ کی جاتی ہے۔

کہتے ہیں کہ تاریخ کے فیصلے درست ہی ہوتے ہیں جیسے دو اور دو ہمیشہ چار ہوتے ہیں۔ البتہ کبھی کبھی تاریخ بدل جاتی ہے اور سوچوں کے رخ بھی سمت بدل لیتے ہیں۔ میرے اکثر قاری حضرات کا سوال یہ ہے کہ آپ کو کیسے یہ اندازہ تھا کہ ٹیکنالوجی بغیر جذبے کے ہمیشہ ہار جاتی ہے؟ اور جذبہ اگر ٹیکنالوجی سے لیس ہو تو کیوں ہمیشہ جیت جاتا ہے؟ امریکہ جیسی طاقتور ترین فوج اور ٹیکنالوجی ایران کے سامنے بے بس کیوں نظر آرہی ہے؟ جنگ کا فاتح کون ہوگا؟ ان سوالوں کا جواب میں کسی ماہر دفاعی یا سیاسی تجزیہ نگار کی طرح تو نہیں دئے سکتا لیکن مجھے ان سوالوں سے ایک محاورا یاد آگیا جس کا عنوان "بھے کا بھوت" ہوتا تھا۔

یہ دراصل اردو کا ایک محاورہ ہے جسے عام طور پر "بھیڑ کا بھوت" بھی کہا جاتا ہے۔ اس محاورئے کا مطلب ہے "بلاوجہ یا خیالی خوف" یعنی ایسا ڈر جو حقیقت میں موجود نہ ہو مگر انسان کے ذہن میں بیٹھ جائے۔ کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں لوگ سمجھتے تھے کہ بھیڑ (بھیڑ یا بکریوں کے ریوڑ) میں کوئی بھوت یا آسیب ہوتا ہے جس سے لوگ بلاوجہ خوفزدہ ہو جاتے تھے مگر جب حقیقت سامنے آتی تو وہ محض سایہ ہوتا تھا۔ "بھے کا بھوت" وقت کےساتھ ایک محاورہ بن گیا۔ مجھے اپنے اسکول کے زمانے کا ایک واقعہ یاد آگیا یقیناََ ہمارے اسکول کے بہت سے لوگوں کو بھی ضرور یاد ہوگا۔

ہمارے........

© Daily Urdu