Aah, Mian Muhammad Nawaz Jhander |
آہ، میاں محمد نواز جھنڈیر
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
زندگی کے ہنگاموں میں کچھ انمول لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض اچھے انسان ہی نہیں رہتے، ایک ادارہ، ایک روشنی، ایک کردار بن جاتے ہیں۔ آج میں اپنے ایک ایسے ہی دیرینہ اور بھائیوں جیسے دوست کی یاد میں قلم اٹھا رہا ہوں، جن کے ساتھ بینک کی تیس سالہ رفاقت محض پیشہ ورانہ تعلق نہ تھی بلکہ ایک طویل روحانی و اخلاقی سفر بھی تھا۔ جی ہاں! حاجی میاں محمد نواز جھنڈیر مرحوم بھی ایسے ہی نایاب اور ہردلعزیز دوستوں میں سے ایک تھے جو اچانک اپنوں سے بچھڑ کر جدائی کا صدمہ دے گئے۔ ان کی ناگہانی اور اچانک موت کی المناک خبر پر اور پھر گذشتہ روز ان کے جنازئے اور رسم قل خوانی پر آنسو روکنا مشکل ہوگیا تھا۔ بےشک وہ دولت شہرت اور سجدوں کے درمیان ایک درویش صفت انسان تھے۔ جو دوستوں کے غموں پر افسردہ اور نم ناک اور خوشیوں میں بھی آگے آگے نظر آتے تھے۔ آج ان کی جدائی میں ہر آنکھ پر نم ہے اور ہر دل افسردہ ہے۔ دل کو یقین سا نہیں آتا کہ واقعی وہ اب ہم میں نہیں رہے؟
ہماری دوستی اور تعلق کی بنیاد بھی محض اتفاق نہ تھی بلکہ تین مضبوط ستونوں پر قائم تھی۔ پہلی وجہ تو ذاتی تعلق اور محبت تھی، جو وقت کے ساتھ ایک خالص اور بے لوث رفاقت میں ڈھل گیا۔ دوسری وجہ بینک کی ملازمت، جہاں ہم نہ صرف ساتھی........