Indus Cascade Ki Balai Storage |
انڈس کیسکیڈ کی بالائی سٹوریج
بالائی سندھ کا پانی کچھ سالانہ برف پگھلنے سے آتا ہے اور ذیادہ تر گلیشئرز کے پگھلنے سے۔ اسطرح سال کا 77 فیصد پانی جون سے ستمبر تک آتا ہے۔ اس بہاؤ کا گراف ایک بیل (گھنٹی) کی شکل بناتا ہے۔ اس گراف کو جتنا فلیٹ کر سکیں، رن آف ریور منصوبوں کی کاکردگی اور پیداوار اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ کیسکیڈ کے موجودہ ڈیزائن تقریباً 50 فیصد کارکردگی کے لیے بنے ہیں۔ صرف بہاؤ کو ریگولیٹ کرلیں تو وہی ٹربائینز ہمیشہ 96 فیصد پر آپریٹ کریں گی۔
دیامر بھاشا ڈیم تکمیل کے بعد 19.28 ارب یونٹ سالانہ بنائے گا، اپر سٹوریج کی موجودگی میں یہی عدد........