Barrister Sultan Mehmood Chaudhry
کل جب بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کی خبر سامنے آئی تو یہ خبر محض ایک فرد کی وفات نہیں تھی بلکہ یوں محسوس ہوا جیسے تاریخ کے ایک اہم باب پر اچانک خاموشی طاری ہوگئی ہو۔ وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو صدرِ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے منصب پر فائز تھے اور یہی حقیقت اس سانحے کو مزید گہرا بنا دیتی ہے۔ آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں کے لیے یہ ایک ایسا صدمہ تھا جس نے دلوں کو بوجھل اور آنکھوں کو نم کر دیا۔ وہ ایک سیاست دان نہیں تھے، وہ ایک عہد تھے، ایسا عہد جس کی بنیاد اصول، استقامت اور مسئلۂ کشمیر سے غیر متزلزل وابستگی پر تھی۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اُن چند رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے آزاد کشمیر کی سیاست میں ہر اہم آئینی منصب نہ صرف حاصل کیا بلکہ اُسے وقار کے ساتھ نبھایا۔ وہ انتقال کے وقت صدرِ ریاست تھے، اس سے قبل 1996 سے 2001 تک آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم رہے اور ایوان کے اندر قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے بھی مؤثر، توانا اور جرات مند کردار ادا کرتے رہے۔ اقتدار ہو یا اپوزیشن، اُن کی سیاست میں اصولوں کی یکسانیت نمایاں رہی۔
اُن کی پوری سیاسی زندگی ایک واضح نصب العین کے گرد گھومتی رہی۔ اُن کے لیے سیاست اقتدار کے........
