Pak Afghan Taluqat Ka Mustaqbil |
پاک افغان تعلقات کا مستقبل
ایک دوسرے کی ضرورت ہونے کے باوجود پاک افغان تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ دونوں طرف کے عوام کی بدقسمتی ہے جس کی بڑی ذمہ داری طالبان رجیم پر عائد ہوتی ہے جس نے کبھی پاکستان کے تحفظات کو سنجیدہ نہیں لیا اور نہ صرف دہشت گرد گروپوں اور علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی جاری رکھی بلکہ اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں دے کر بھارتی پراکسی کے طور پر پاکستان اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں حصہ دار بنے۔ سوال یہ ہے کہ پاک افغان تعلقات کا مستقبل کیا ہے؟ تو اِس کا سادہ سا جواب ہے کہ جونہی طالبان رجیم نے اپنی غلطیاں تسلیم کر لیں اور درستی کے اقدامات کیے تو تعلقات بہتر اور خوشگوار ہو جائیں گے کیونکہ افغانوں بارے پاکستان کا رویہ ہمیشہ فیاضانہ اور رحمدلانہ رہا ہے۔
پاکستان اور افغانستان دو ایسے ہمسائے ہیں جن میں خوشگوار تعلقات کا عرصہ تلاش کرنا مشکل ہے مذہبی، ثقافتی اور لسانی رشتوں کے باوجود بے اعتباری کی طویل تاریخ ہے جس کا آغاز قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی ہوگیا تھا جب اقوامِ متحدہ کی رُکنیت کے وقت افغانستان نے مخالفت کی اور پھر نوزائیدہ مملکت کے لیے سرحدی مسائل پیدا کیے۔ علیحدگی کی تحریکوں کی سرپرستی کی اِن تمام سازشوں کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ بڑے ظرف کا مظاہرہ کیا۔ وائے افسوس کہ افغانستان نے قدر نہ کی اور ظرف کو کمزوری سمجھ کر بھارت کی خوشنودی کے لیے ہر بار دوستی کے لیے بڑھائے پاکستانی ہاتھ کو نظر انداز کیا یہ کوتاہ اندیشی ہے یا دولت کی ہوس؟ یا دونوں پہلو ہو سکتے ہیں افغان حکمرانوں نے ملک اور خطے کا مفاد قربان کر........