Lakir Ke Faqir Nahi Durust Dagar |
امریکی محصولات اور مطالبات پر ریاستیں جس تیزی سے خارجی سمت بدل رہی ہیں یہ بدلاؤ دنیا کو ایک بار پھر سرد جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے حالانکہ جولائی 2024 میں جب ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربن نے رومانیہ میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی نظام تبدیلی کی طرف جارہا ہے اور مستقبل میں عالمی طاقت مغرب سے مشرق اور روس کی طرف منتقل ہوجائے گی تو اِس دعوے کو زمینی حقائق کے متضاد یا قبل ازوقت قرار دیا۔ مگر اب تو صورتحال بڑی حدتک واضح ہے مگر اِس میں روس یا چین کا عمل دخل کم اور صدر ٹرمپ کا زیادہ کردار ہے جنھوں نے نہ صرف اسلامی ممالک کو اِدھر اُدھر دیکھنے پر مجبور کیا بلکہ مغربی ممالک کو بھی باور کرایا کہ امریکہ پر تکیہ نہ کریں یا قابلِ بھروسہ نہیں۔ ایسے حالات میں جب دنیا تبدیلیوں کی زد میں ہے پاکستان کی پالیسی میں روایتی ٹھہراؤ اور تحمل ہے آج بھی مطمع نظر امریکی خوشنودی ہے جس سے ایسے قیاسات کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان کو تبدیلوں کا صیح معنوں میں ادراک ہی نہیں اسی لیے پُرانی ڈگر پر ہے۔ اگر ادراک ہوتا تو روایتی حریف بھارت سے ہی کچھ سیکھ کر تبدیلیوں کے تناظر میں نئی حکمتِ عملی ترتیب دیتا۔
عالمی حوالے سے روس اور چین کی سوچ ایک ہے بھارت بھی امریکہ پر انحصار بتدریج کم کرتے ہوئے نئی معاشی و تجارتی حکمتِ عملی اختیار کر چکا۔ ایسے حالات میں جب توانائی مسائل سے پاکستانی صنعت زبوں حالی کا شکار ہے اور برآمدی پیداوار میں تاریخی کمی کا سامنا ہے اِس میں بہتری کے زیادہ آثار اِس لیے بھی کم ہیں کہ برآمدی مال ہونے کی وجہ سے امریکہ کی طرف سے محصولات میں کمی اور یورپی........