Khaleeji Larai Ke Kuch Heran Kun Pehlu

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

ایران پر حملوں کو عالمی تائید حاصل نہیں ہو سکی جوکہ بہت حیران کُن ہے۔ دنیا کے بیس فیصد تیل کی ترسیل کا زریعہ آبنائے ہُرمز کی بندش نے متاثرہ ممالک کو پریشان کردیا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران باوجودکوشش تگڑا جواب نہیں دے سکا جس کی وجہ فضائیہ اور بحریہ کی کمزوری ہے لیکن میزائل اور ڈرونز سے حملے کر رہا ہے۔ طوالت اختیار کرتی اِس لڑائی پر امریکہ ورطہ حیرت میں ہے کیونکہ اُس کا اندازہ تھا کہ سپاہ آتے ہی ایران جُھک جائے گا اور امریکی شرائط تسلیم کرلے گا مگر یہ اندازہ غلط ثابت ہوا ہے جس پر غصے میں اسرائیل کے ساتھ مل کرایران پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے اور ایرانی انفراسٹرکچر کو ملیا میٹ کرنے کے ساتھ سپریم لیڈر بھی مار دیا۔

ایران بھی شکست تسلیم نہیں کر رہا اور نہ صرف خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ اسرائیل کو بھی نشانے پرلے رکھا ہے جس سے ہونے والی تباہی زرائع ابلاغ دنیا کو بتا رہے ہیں۔ لڑائی کا ایک اہم پہلو ایران کی طرف سے بند کیے آبنائے ہُرمز کو باوجود کوشش کھلوانہ سکنا ہے۔ امریکہ نے اپنے روایتی حامیوں کے ساتھ چین سے بھی مدد طلب کی لیکن ٹرمپ پُکار کا کسی طرف سے بھی مثبت جواب نہیں آیا۔ جاپان، آسٹریلیا، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے آبنائے ہُرمز پر لگائی ایرانی بندش ختم کرانے کے لیے بحری نفری بھیجنے سے معذرت کر لی ہے جو امریکہ جیسی واحد عالمی سُپر پاور کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں یہ صورتحال بدلتے عالمی حالات کی طرف اِشارہ ہے۔

ایران پر حملوں میں اسرائیل کی رفاقت سے امریکہ نے بہت کچھ کھو دیا ہے اُس کے رعب ودبدبے میں........

© Daily Urdu