Gilgit Baltistan Ka Intikhabi Maarka Aur Shikway |
گلگت بلتستان کا انتخابی معرکہ اور شکوے
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 33 نشستیں ہیں یہ اسمبلی 2009 میں گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت بنائی گئی اب یہاں کے لوگ مکمل صوبائی درجہ چاہتے ہیں تاکہ قومی مالیات میں حصہ اور سینٹ میں نمائندگی ملے۔ تینتیس میں سے چوبیس نشستوں پر براہ راست انتخاب ہوتے ہیں جبکہ خواتین کے لیے چھ اور تین ٹیکنو کریٹ کے لیے مخصوص ہیں۔ کل سات جون کو گلگت بلتستان کے دس اضلاح کے لوگ مقامی اسمبلی کی چوبیس جنرل نشستوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ اِس حوالے سے جاری انتخابی مُہم نکتہ عروج پرہے قومی قیادت کی آمد نے انتخابی معرکہ نہایت دلچسپ اور جاندار بنا دیا ہے۔
مرکز میں حکمران جماعت ن لیگ یہاں اپنی ہی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے خلاف صف آراء ہے جبکہ تحریکِ انصاف بھی اپنے وجود کا بھرپور احساس دلا رہی ہے حالانکہ اُس کے امیدوار مختلف نشانات کے ساتھ میدان میں ہیں۔ آزاد اُمیدواروں کی بڑی بڑی تعداد بھی قسمت آزمانے کے لیے میدان میں ہے مگر یہاں اصل مقابلہ مذکورہ بالا تینوں جماعتوں میں ہے جو علاقے کو گلستان اور مسائل فری بنانے کی دعویدار ہیں کیسی عجیب بات ہے کہ تینوں اقتدار میں آکر کچھ نہ کر سکیں۔ انتخابی جائزے ن لیگ اور پی پی کے حق میں ہیں لیکن یہ حرفِ آخر نہیں بلکہ آئندہ حکومت اتحادی تشکیل پانے کا امکان رَد نہیں کیا جا سکتا۔
پہاڑوں اور وادیوں کی یہ سرزمین سیاحت کا مرکز بن سکتی ہے مگر انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں تک رسائی مشکل ہے روزگار اور صحت کے مسائل........