Bartania Ki Majboori European Union

برطانیہ کی مجبوری یورپی یونین

برطانیہ کے شہریوں نے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے تحریک چلائی اُن کے خیال میں برطانیہ کی مضبوط اور ترقی کرتی معیشت کی راہ میں یورپ کے معاشی حوالے سے کمزور ممالک رکاوٹ ہیں۔ اِس خیال کی وجہ رومانیہ سمیت مشرقی یورپ کے ممالک سے لوگوں کی بڑی تعداد کا اپنا مسکن برطانیہ کو بنانا تھا جو برطانوی شہریوں کے لیے رہائشی اور ملازمتوں کے مواقع محدود کرنے کا باعث ہیں حالانکہ ایک فائدہ بھی تھا کہ نئے آنے والے والے زیادہ محنت سے کام کرتے اور برطانیہ کو اقتصادی طور پر مضبوط بنا رہے تھے۔ اُن کی محنت سے ملک کو زیادہ ٹیکس حاصل ہونے لگا تھا لیکن عوامی تحریک نے حکومت کو مجبور کر دیا کہ یورپی یونین سے الگ ہوا جائے۔

عوامی رائے جاننے کے لیے جون 2016 میں بریگزٹ کے نام سے ملک میں ریفرنڈم کرایا گیا جس میں 52فیصد کے لگ بھگ شہریوں نے یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں ووٹ دیا تاکہ برطانیہ اپنی سرحدوں کے ساتھ اپنے قوانین کے نفاذ اور معیشت پر دوبارہ وہ کنٹرول حاصل کرسکے۔ اِس ریفرنڈم میں 48فیصد شہریوں نے بدستور یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا لیکن ظاہر ہے اکثریت کا فیصلہ تسلیم کرنا ہوتا ہے لہٰذا 31 جنوری 2020 میں برطانیہ نے یورپی یونین کو خیر باد کہہ دیا جس کے نتیجے میں آزاد تجارت کے ساتھ آزاد نقل وحمل کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن آج ثابت ہوگیا ہے کہ یہ فیصلہ ایک جذباتی سوچ کے زیر اثر کیا گیا جس سے فوائد کم اور نقصانات زیادہ برطانیہ کے حصے میں آئے۔ اسی لیے ایک بار پھر سوچا جانے لگا ہے کہ یورپی یونین کو چھوڑنے کا فیصلہ ایک غلطی تھا جسے درست کرنا ضروری ہے........

© Daily Urdu