Achakzai Ka Quaid e Hizb e Ikhtilaf Banna |
سیاسی قیادت کی آج بھی حکمتِ عملی کا واحد مقصد اقتدار کا دورانیہ طویل اور حکومت میں آنے کی راہ ہموار کرنا ہے جس کے تناطر میں قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اُسے خطے کی بدلتی صورتحال کا ادراک نہیں، اسی لیے بدلے حالات کے مطابق فیصلے اور تیاریاں کرنے سے قاصر ہے۔ زیادہ دور کیوں جائیں ابھی ہفتہ قبل ہی ایران انتشار و افراتفری کے بحران پر بمشکل قابو پا سکا ہے جس کا منبع اندرونی سے زیادہ بیرونی تھا۔ اگر مزید تھوڑا پیچھے جائیں تو عرب بہارکے نام پر کئی مسلم ممالک کو عدمِ استحکام سے دورچار کیا گیا جس کے بارے میں کوئی ابہام نہیں رہا کہ عرب ممالک کی یہ تحریکیں سیاسی بیداری نہیں تھیں بلکہ پسِ پردہ ایسے بیرونی عناصر تھے جو مسلم ممالک سے خارجہ پالیسیاں تبدیل کرانا چاہتے تھے۔
جونہی قیادت تبدیل ہوئی اور اسرائیل کو تسلیم کرانے یا بیرونی پالیسیوں میں ردوبدل کا مقصد حاصل ہوگیا تو عرب بہار میں بھی ٹھہراؤ آگیا اور سیاسی بیداری کی تحریکیں خاموش ہوگئیں۔ پاکستان کو تو ویسے بھی احتیاط کی ضرورت ہے کہ یہ دنیا کا واحد مسلم ملک ہے جس کے پاس جوہری طاقت ہے جس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے جسے عالمی طاقتیں ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کر سکتیں، لہذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت بلوغت سے سوچ سمجھ کر ایسے فیصلے کرے جو سیاسی استحکام کا باعث بنیں اور جن سے بیرونی مداخلت کی حوصلہ شکنی ہو مگر محمود اچکزئی کے قائدِ حزب اختلاف بننے سے فکری حلقوں کو اچھا پیغام نہیں گیا بلکہ اِس فیصلے سے یہ تاثر پختہ ہوا ہے کہ سیاسی قیادت اقتدار کے........