Wo Baat Ke Saare Fasane Mein Jiska Zikr Na Tha
وہ بات کے سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
آج اتوار اور عیدالفطر کا دوسرا دن ہے آپ یہ سطور سوموار 23 مارچ کو پڑھ رہے ہوں گے۔ ایران جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہوکر تباہیاں کاشت کررہی ہے، آبنائے ہرمز جنگ سے متاثر ہے اور دنیا جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں اور دعووں کے درمیان مقابلہ بدستور زوروشور سے جاری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جنگ کا کمبل ٹرمپ سے اتارے نہیں اترے گا۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے حالیہ دنوں میں دو حیران کر دینے والے کام کئے۔ پہلا ایک جدید ترین امریکی جنگی طیارے ایف 35 کو نشانہ بنا کر دوسرا چار ہزار کلو میٹر فاصلے پر مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرکے۔ یہ دوسری خبر امریکی جریدے "وال سٹریٹ جرنل" کی ہے۔ کچھ لوگ اسے فالس فلیگ آپریشن کہہ رہے ہیں یعنی امریکہ کے عرب و عجم کے اتحادیوں کو خوفزدہ کرکے انہیں جنگ میں گھسیٹنے کی حکمت عملی کا حصہ درست کیا ہے۔ خبر یا تجزیہ نگاروں کی رائے ایک آدھ دن میں بات واضع ہوجائے گی۔
فی الوقت یہ ہے کہ ایران نے گزشتہ دو دنوں کے دوران اسرائیل پر جو میزائل حملے کئے ان سے اسرائیل کے مختلف شہروں میں خاصی تباہی ہوئی۔ بتایا جارہا ہے کہ حیفہ کی آئل ریفائنری بجلی گھر اور دیگر علاقوں کے عسکری نوعیت کے اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا البتہ نیتن یاہو سوشل میڈیا پر ہلاک کردیئے جانے کے باوجود زندہ ہے۔
میدان جنگ سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ایران کی جانب سے دو اسرائیلی شہروں دیمونا اور عراد پر کئے گئے شدید میزائل حملوں میں، 6 افراد ہلاک، 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ادھر ایران کی توانائی کی تنصیبات پر ہوئے حملوں کے نتیجے میں دنیا میں تیل اور گیس کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ توانائی کا بحران یورپی ممالک کے دروازوں پر دستک دینے لگا ہے۔ غالباً اسی لئے ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے بھرپور طاقت کے استعمال کا عندیہ دیا ہے۔ اسی دوران یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ امریکہ کے کچھ مغربی اتحادی آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے "مناسب تعاون" پر آمادہ ہیں۔
اس آمادگی کو اگر تجزیہ نگاروں کی وال سٹریٹ جرنل کی خبر (ایران کے چار ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل تجربے) پر دی گئی رائے کو ملاکر دیکھا جائے تو ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ مغربی ممالک کو عربوں کی طرح جنگ میں گھسیٹنے کیلئے کوئی "تماشا" کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے اپنے شہید ہونے والے سیکورٹی چیف علی لاریجانی کی جگہ میدانی اور گوریلہ جنگوں کے ماہر حسین دہغان کو نیا سیکورٹی چیف مقرر کردیا ہے۔
ایران پر مسلط جنگ کے آغاز کے بعد سے ان سطور میں عرض کرتا آرہا ہوں کہ چار دن میں رجیم چینج کر دینے کا مشن لے کر ایران پر چڑھ دوڑنے والوں (امریکہ اور........
