Saneha Tarlai Kahan, Kuch Talkh o Shereen Baatein Aur Sawalaat

ہمارے ہاں دہشتگردی کے ایک سے دوسرے واقعے کا درمیانی عرصہ زمانہ امن کہلاتا ہے اس زمانے کے مختصر و طویل یا عارضی ہونے کے حوالے سے کوئی پیشنگوئی کرنا جوئے شیر لانے کے مصداق معاملہ ہے انتہاوں میں تقسیم ہمارے سماج کو یکجہتی کی ضرورت ہے مگر ہم اس سے سواتین برس نوری سال کے فاصلے پر میں میں تو تو کے غل غپاڑے میں جُتے ہوئے ہیں چنددن قبل ملکی سیاست کے حوالے سے لکھے کالم میں عرض کیا تھا " ہم یہاں آئے نہیں ہانکا کرکے لائے گئے ہیں " سچ پوچھیں تو یہ صرف میدان سیاست کا المیہ نہیں زندگی اور سماج کے دیگر معاملات بھی ایسے ہی المیوں سے عبارت ہیں " کہاں تک سناوں دیکھاوں حال و زخم " کیا حال سنانے اور زخم دیکھانے سے کوئی فرق پڑے گا؟ کم از کم میرا جواب نفی میں ہے مثلاً اسلام آباد کی نواحی آبادی ترلائی کلاں کی مسجد سیدہ خدیجہؑ میں گزشتہ جمعے کو نماز جمعہ کے دوران ہوئی دہشتگردی کے المناک سانحہ کو ہی دیکھ لیجے وفاقی حکومت کے بڑوں نے شہید نمازیوں کی نعشیں ان کے آبائی علاقوں کی طرف بھجوانے کیلئے منت ترلہ پروگرام میں کامیابی سمیٹنے کے بعد پلٹ کر متاثرین کی خبر تک نہیں لی یہ کیسا ملک ہے کہ ایوان صدر وزیراعظم ہاوس پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ و وفاقی دستوری عدالت سے چند کلومیٹر دور ایک المناک سانحہ ہوا کسی کے کانوں پر جُوں نہیں رینگی صدر وزیراعظم اور دوسرے بڑے سرد موسم میں دھنیا پی کر سوئے رہے وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (ان کے اجلاس جاری تھے) میں پہنچ کر قوم کو بذریعہ پارلیمنٹ اعتماد میں لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی البتہ کچھ وزرا نے عوام الناس کو بھارت اور موجودہ افغان رجیم کے تعاون سے جاری دہشتگردی کا راگ بیسوی (پکا پکایا سرکاری راگ) ضرور سنوایا لوگ باگ اس راگ سے نہیں بہل پائے تو راگی وزرا کو اپنے اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہئے (ایک اور کام کا مشورہ دل و دماغ میں آیا لیکن قلم مزدور حد ادب و صحافت سے کاملاً آگاہ)۔

ترلائی کلاں اسلام آباد........

© Daily Urdu