Jaare Mein Garma Garam Siasi Sargarmiyan

تحریک تحفظِ آئین پاکستان نامی اتحاد کے رہنما محمود خان اچکزئی اور سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری و چند دیگران پچھلے دو دنوں (یہ سطور لکھتے وقت) سے لاہور کے سرد موسم کو گرمانے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ تحریک انصاف کے چند بڑے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ہمراہ سندھ یاترا پر ہیں۔ سہیل آفریدی اپنی جماعت کی اعلان کردہ سٹریٹ موومنٹ کیلئے ورکروں کو متحرک اور شہریوں کو موومنٹ میں شرکت کی دعوت کے مشن پر ہیں۔ تحریک تحفظ آئین والے 8 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کرانے کے مشن پر۔

گزشتہ روز لاہور میں این جی اوز برانڈز سرخوں کی ایک تنظیم حقوق خلق پارٹی نے اپنی متعدد ذیلی تنظیموں سمیت تحریک تحفظ آئین میں شمولیت کا اعلان کیا تو مجھے ماضی کی ایک مزدور کسان پارٹی والے فتحیاب علی خان یاد آگئے، پنجاب میں ترقی پسندوں کے این جی اوز برانڈ ایک دھڑے کی پارٹی حقوق خلق پارٹی کے سربراہ ہمارے قابل احترام دوست فاروق طارق ہیں۔ عمار علی جان نامی معروف ترقی پسند ان کی جماعت کے سیکرٹری جنرل۔

عمار علی جان تیسرے فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں "میں باغی ہوں" والی مشہور زمانہ نظم کے خالق ڈاکٹر خالد جاوید جان کے صاحبزادے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی سیاسی وابستگی پیپلز پارٹی سے مسلمہ رہی ان کے صاحبزادے عمار علی جان ترقی پسند خیالات کے حامل پنجاب کے نوجوانوں کے ایک حلقے میں معروف ہیں۔ کچھ عرصہ قبل عمار علی جان نے کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی حمایت کی تھی اب ان کی جماعت انجمن متاثرین عمران خان المعروف تحریک تحفظ آئین میں شامل ہوگئی ہے۔

ہمارے ہمزاد فقیر راحموں کا دعویٰ ہے کہ تحریک تحفظ آئین نامی اتحاد کا آنے والے دنوں کی سیاست میں وہی کردار ہوگا جو سال 1977 میں بننے والے سیاسی اتحاد پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کا تھا،........

© Daily Urdu