Ewan e Sadar Mein Hui Baithak Aur 4 October Ka Long March
ایوانِ صدر میں ہوئی بیٹھک اور 4 اکتوبر کا لانگ مارچ
جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کی قومی اسمبلی کے سپیکرکے دفتر میں ہوئی پہلی ملاقات کا اعلامیہ بھی آچکا ہوگا یہ اعلامیہ ہی بتائے سمجھائے گا " بات آگے چلے گی مزید ملاقاتیں ہوں گی یا تم سے ملے ہم ہم سے ملے تم بات ختم سجن " یہ سطور جمعہ کی نیم دوپہر میں لکھ رہا ہوں جمعرات کی شام ایوانِ صدر میں صدر مملکت اور وزیر اعظم کی بیٹھک ہوئی جسمیں نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار وزیر داخلہ محسن نقوی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان کے علاوہ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیریں رحمٰن سینیٹر سلیم مانڈوی والہ شرجیل میمن اور ناصر حسین شاہ بھی شریک تھے وزیر داخلہ اور وزیر قانون نے خیبرپختونخوا کی صورتحال مسائل صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی پر تفصیلی بریفنگ دیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی ضرورتوں کے ساتھ نتائج پر بھی غور کیا گیا۔
تحریر نویس کی اطلاع کے مطابق خیبرپختونخوا کے مسئلہ پر جو قدم وفاقی حکومت اٹھانا چاہتی ہے پیپلز پارٹی اس سے متفق نہیں ایوان صدر میں جاری رہنے والی اس بیٹھک کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کیلئے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی وزیر امور کشمیر امیر مقام وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ پیپلز پارٹی سے شیریں رحمٰن سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی شامل ہیں مسلم لیگ ن نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے امیر مقام کو کمیٹی میں شامل کیا لیکن پیپلز پارٹی کے تینوں ارکان کا تعلق سندھ سے ہے مناسب ہوتا اگر پیپلز پارٹی بھی خیبرپختونخوا سے اپنے کسی رہنما کو کمیٹی میں رکھتی بہر حال خوش آئند بات یہ ہے کہ ایوانِ صدر میں ہوئی بیٹھک میں کسی ایسے اقدام پر........
