79Wa Youm e Azadi Ya Youm e Ehtesab
79 واں یومِ آزادی یا یومِ احتساب
آج ملک بھر میں 79 واں یومِ آزادی شان و شوکت سے منایا جارہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے دن اس پر ضرور غور کیا جائے کہ کیا 14 اگست 1947 سے 14اگست 2026ء تک کے سفر میں ہم وہ مقاصد حاصل کرپائے جن کیلئے پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تھا؟ ثانیاً یہ کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کو پہلی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہری و سیاسی حقوق اور سماجی وحدت کے قیام کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا بعد کے ماہ و سال میں ان سے کوئی رہنمائی لی گئی نیز کیا قائد کے اس خطاب سے دستور کی تدوین کے مرحلے میں استفادہ کیا گیا؟ 79 ویں جشنِ آزادی کے موقع پر اگر مندرجہ بالا دو سوالوں پر ہی غور کیا جائے تو جواب نفی میں ملے گا اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ روز اول سے ہی قائد کے بیان کردہ اصولوں پر ریاست اور نظام کی تعمیر کی بجائے بالادست اشرافیہ کے خالص طبقاتی نظام کا طوق نو آزاد ملک کے لوگوں کے گلوں میں ڈال دیا گیا۔
آج کا پاکستان جو قیام پاکستان کے بعد مغربی پاکستان کہلایا کی جغرافیائی حدود میں صدیوں بلکہ ہزاریوں سے آباد قوموں سے ان کی تاریخی تہذیبی و ثقافتی شناخت چھین کر ان پر اجنبی تاریخ تہذیب و تمدن اور شناخت مسلط کردی گئی۔ مشرقی پاکستان کہلانے والے حصے میں خبطِ عظمت پر مبنی اس فہم و فکر اور نظام کے خلاف مزاحمت ہوئی گو مغربی پاکستان سے بھی مخالفت میں اکا دکا آوازیں بلند ہوئیں لیکن جس طرح کی مزاحمت ہونا چاہئے تھی وہ نہ ہوسکی نتیجہ یہ نکلا کہ تاریخی تہذیبی و تمدنی اور قومیتی شناختوں کے حوالے سے ہم آدھا تیتر آدھا بٹیر بن کر رہ گئے رہی سہی کسر........
