menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

PIA Ki Nijkari, Qaumi Etemad Ka Imtihan

22 2
26.12.2025

پاکستان میں نجکاری کا تصور ہمیشہ سے محض ایک معاشی پالیسی نہیں رہا بلکہ یہ ایک نظریاتی، سیاسی اور سماجی بحث کی علامت بھی رہا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں سرکاری اداروں کی نجکاری اب ایک معمول کی انتظامی حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے، جہاں ریاست اپنے کردار کو پالیسی ساز اور نگران تک محدود کرکے کاروباری ذمہ داریاں نجی شعبے کے سپرد کر دیتی ہے۔ مگر پاکستان میں معاملہ مختلف رہا ہے۔ یہاں ہر نجکاری قومی خودمختاری، وسائل پر کنٹرول، روزگار کے تحفظ اور طبقاتی تقسیم جیسے سوالات کو جنم دیتی ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کی حالیہ کوشش اسی پیچیدہ پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ پی آئی اے صرف ایک ایئرلائن نہیں بلکہ پاکستان کی شناخت، تاریخ اور اجتماعی یادداشت کا حصہ رہی ہے۔ ایک ایسا ادارہ جس نے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کی کئی ایئرلائنز کی بنیاد رکھنے میں تکنیکی کردار ادا کیا، آج خساروں، بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور مالی بوجھ کی علامت بن چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی نجکاری کی بات برسوں سے کی جا رہی تھی، مگر ہر بار یا تو سیاسی مزاحمت آڑے آتی رہی یا پھر سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی رکاوٹ بنتی رہی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر نجکاری پر اب زیادہ بحث نہیں ہوتی، مگر پاکستان میں بائیں بازو کی باقی رہ جانے والی چند آوازیں اب بھی اس کے خلاف سنائی دیتی ہیں۔ یہ آوازیں اگرچہ معدوم ہوتی جا رہی ہیں، لیکن جب بھی اپوزیشن سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں تقویت دیتی ہے تو یہ ایک وقتی مگر لاؤڈ احتجاج میں بدل جاتی ہیں۔ پی آئی........

© Daily Urdu