Kya Inqilabi Shayari Badlao La Sakti Hai?

کیا انقلابی شاعری بدلاؤ لاسکتی ہے؟

انقلاب محض حکومتوں کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ فکر، شعور، رویّوں اور سماجی ڈھانچوں میں بنیادی تبدیلی کا عمل ہے۔ جب معاشرے کے اندر ناانصافی، طبقاتی تفاوت، سیاسی جبر اور فکری جمود بڑھ جائے تو انقلاب پہلے ذہنوں میں جنم لیتا ہے پھر میدانوں میں اُترتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعری اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ انقلابی شاعری بندوق نہیں اُٹھاتی مگر بندوق اٹھانے والے ہاتھوں کے اندر سوال، غیرت، آگہی اور مزاحمت پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے دُنیا کی تقریباً ہر بڑی تحریک کے پیچھے کوئی نہ کوئی شاعر ضرور کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

شاعری انسان کے دل تک پہنچنے کا وہ راستہ ہے جہاں قانون، تقریر اور نعرہ بھی ہمیشہ نہیں پہنچ پاتے۔ الفاظ جب جذبے کے ساتھ ملتے ہیں تو وہ محض زبان نہیں رہتے بلکہ اجتماعی شعور بن جاتے ہیں۔

اردو ادب میں انقلابی شاعری کی روایت بہت مضبوط ہے۔ نظیر اکبر آبادی نے عوامی زندگی کو شعر میں جگہ دی۔ علامہ اقبال نے خودی اور بیداری کا پیغام دیا۔ ترقی پسند تحریک نے شاعری کو باقاعدہ سماجی تبدیلی کا ہتھیار بنایا۔ ادبی مؤرخین کے مطابق ترقی پسند تحریک نے اردو شاعری کو محض حُسن و عشق سے نکال کر سماج اور سیاست سے جوڑا۔

پاکستانی سماج میں شاعر ہمیشہ محض شاعر نہیں رہا بلکہ رائے ساز بھی رہا ہے۔ برصغیر میں جلسوں، مشاعروں، تحریکوں اور سیاسی اجتماعات میں شاعروں کا کردار کسی رہنما سے کم نہیں رہا۔ فیض احمد فیض، حبیب جالب، احمد فراز، کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض جیسے شعرا نے آمریت، جبر اور استحصالی قوتوں کے خلاف اجتماعی شعور کو زبان دی۔ فیض کا یہ شعر صرف ادبی حُسن نہیں بلکہ سیاسی اعلان تھا:

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول زباں اب تک........

© Daily Urdu